سوئڈن کے یونیورسٹی اوربرو کے محققین نے دو جدید مصنوعی ذہانت کے ماڈل تیار کیے ہیں جو دماغ کی برقی سرگرمی کا تجزیہ کر کے صحت مند افراد اور ڈیمنشیا کے مریضوں کی درست شناخت کر سکتے ہیں۔
تحقیق کے دوران استعمال ہونے والے جدید تجزیاتی ماڈلز نے دماغ کے سگنلز کی بنیاد پر صحت مند افراد، الزائمر کے مریض اور فرنٹو ٹیمپورل ڈیمنشیا کے شکار افراد کی درجہ بندی تقریباً درستگی کے ساتھ کی۔
امریکی محکمے کے خفیہ ریکارڈ میں کورونا ویکسین سے بچوں کی ہلاکتوں کا انکشاف: نیویارک ٹائمز
ایک اور ماڈل مریض کی نجی معلومات کی حفاظت کو مدنظر رکھتے ہوئے تیار کیا گیا ہے، جس کا حجم صرف ایک میگا بائٹ سے کم ہے اور اس نے تشخیص میں تقریباً ستانوے فیصد درستگی کا مظاہرہ کیا۔
محققین کے مطابق دماغی برقی سرگرمی کی بنیاد پر تشخیص نسبتاً آسان اور کم لاگت ہے اور یہ ماڈل مستقبل میں کلینکوں، اسپتالوں اور حتیٰ کہ گھروں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے، جس سے ابتدائی تشخیص اور بروقت علاج ممکن ہو گا اور مریض کے معیار زندگی میں بہتری آئے گی۔
سبزی یا گوشت: وزن کم کرنے کے لیے کون سی غذا مؤثر؟
محققین کے مطابق وہ اس ماڈل کو وسعت دینے، مختلف اقسام کی ڈیمنشیا شامل کرنے اور مریض کی نجی معلومات کی مکمل حفاظت برقرار رکھنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔
