ایدھی فاؤنڈیشن کے مرکز میں ملی اطلاعات کے ذریعے پنجاب سیف سٹی کے ڈیٹا سسٹم سے 10 سال کی عمر میں اسلام آباد سے لاپتہ ہونے والی کرن 15 سال بعد کراچی میں اپنے والدین سے مل گئی۔
ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق جب کرن کی تفصیلات سیف سٹی کے ریکارڈ سے مطابقت رکھتی پائی گئیں تو اسے والد کے حوالے کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ وہ گھر سے آئس کریم خریدنے نکلی تھی جب راستہ بھٹک گئی اور بعد ازاں ایک نامعلوم فرد کے ذریعے اسلام آباد کے ایدھی مرکز منتقل کر دی گئی تھی۔
تدفین سے پہلے کفن میں حرکت، تھائی لینڈ میں مردہ قرار دی گئی عورت زندہ نکل آئی
کرن نے کہا کہ ایدھی فاؤنڈیشن میں گزارا گیا وقت خوشگوار تھا، لیکن والدین سے دوبارہ ملنا اس کی زندگی کا سب سے اہم لمحہ تھا۔
ایدھی مرکز کی انچارج شبانہ فیصل نے بتایا کہ کرن کی فیملی تلاش کرنے کی کئی مرتبہ کوشش کی گئی، مگر تاحال کوئی ٹھوس پیش رفت نہیں ہو سکی تھی۔ تاہم گزشتہ چند ہفتوں میں ملک کے مختلف علاقوں سے 12 لاپتہ بچوں کو ان کے اہلِ خانہ سے ملایا گیا ہے، جن میں کراچی کی پانچ لڑکیاں بھی شامل ہیں۔
امریکی ویزا مسترد ہونے پر ڈاکٹر نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی
سوشل میڈیا پر کرن کے دوبارہ اہلِ خانہ سے ملنے کی خبر نے گہرا اثر چھوڑا ہے، اور بہت سے افراد ایدھی فاؤنڈیشن کی انتھک کاوشوں کی تعریف کر رہے ہیں۔ کرن کے والد نے بھی کرن کو پناہ دینے کے لیے ایدھی فاؤنڈیشن کا تہہِ دل سے شکریہ ادا کیا۔
