برطانیہ کی ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ صحت مند طرزِ زندگی، خاص طور پر متوازن غذا اور باقاعدہ ورزش، پیٹ کی خطرناک چربی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
جرنل جمع ورک اوپن میں شائع تحقیق کے مطابق جو لوگ صاف ستھرا اور صحت مند کھانا کھاتے تھے یا باقاعدگی سے ورزش کرتے تھے، ان میں وزن بڑھنے کی رفتار کم رہی، چاہے وہ جلد کے نیچے جمع ہونے والی چربی ہو یا پیٹ کے اندرونی حصے میں موجود خطرناک چربی، اس کمی نے جگر کی چربی کے خطرے کو بھی گھٹا دیا۔
سردیوں میں گلے کی خراش ختم کرنے کے فوری اور آسان طریقے
تحقیق کے مطابق مختلف طرزِ زندگی کے حامل 7,200 سے زائد درمیانی عمر کے بالغ افراد کو اوسطاً سات سال تک کا ڈیٹا شامل کیا گیا۔
صحت مند غذا اور ورزش کرنے والے افراد میں، غیر صحت مند طرزِ زندگی رکھنے والوں کے مقابلے میں، کل جسمانی چربی 1.9 کلوگرام کم اور ویسیرل فیٹ 150 گرام کم جمع ہوئی، جس سے چربی کے مجموعی اضافے میں بالترتیب 7 فیصد اور 16 فیصد کمی دیکھنے میں آئی۔
تحقیق کی مصنفہ ڈاکٹر نِیتا فاروہی نے کہا کہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ درمیانی عمر میں طرزِ زندگی بہتر بنانا نہ صرف وزن کم کرنے کے لیے ضروری ہے بلکہ میٹابولک بیماریوں کے خطرے کو گھٹانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔
کھیرا کھانے سے موٹاپے اور شوگر کی بیماری پر کیا اثر ہوتا ہے؟
انہوں نے کہا کہ غیر صحت مند کھانے اور غیر فعال طرزِ زندگی کو بڑھاوا دینے والے ماحول کے باوجود، چھوٹی مگر مستقل تبدیلیاں، جیسے بہتر غذا اور جسمانی سرگرمی، نمایاں فائدہ پہنچا سکتی ہیں۔
