کولمبیا یونیورسٹی کی تحقیقی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ وہ ٹولز جو مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ جعلی تصاویر کی شناخت کے لیے بنائے گئے ہیں، اکثر اپنی ہی تیار کردہ تصاویر کو پہچاننے میں ناکام رہتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مرکز نے سات مختلف چیٹ بوٹ ماڈلز کی جانچ کی اور نتیجہ یہ نکلا کہ یہ تمام ماڈلز فوٹو جرنلسٹ کی فراہم کردہ دس تصاویر کی اصلیت اور ماخذ کی درست شناخت کرنے میں ناکام رہے۔
دبئی میں جدید ٹیکنالوجی اور روبوٹکس والا دنیا کا سب سے شاندار اسکول
تحقیق کے مطابق کئی ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جہاں جنریٹیو ماڈلز کی جانب سے بنائی گئی تصاویر خود وہی ٹولز اصلی قرار دے دیتے ہیں جو ان تصاویر کی جانچ کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ ایک مثال میں، فلپائن کے سابق قانون ساز کی ایک وائرل تصویر کو ٹیسٹ کرنے کے لیے اے آئی ٹول استعمال کیا گیا، لیکن ٹول نے اسے حقیقی قرار دے دیا، حالانکہ وہی ماڈل تصویر بنانے والا تھا۔
ماہرین کے مطابق زیادہ تر ماڈلز زبان یا پیٹرن کی بنیاد پر تربیت یافتہ ہوتے ہیں اور ان میں بصری حقیقت کا درست اندازہ لگانے کی صلاحیت محدود ہوتی ہے، یہ ماڈلز صرف مشابہ بنانے کے قابل ہیں اور حقیقت کا اندازہ نہیں لگا سکتے کہ ملتی جلتی تصاویر اصل سے کس حد تک مختلف ہیں۔
یوٹیوب میں ویڈیوز شیئر کرنے کے لیے نیا میسجنگ فیچر
ماہرین کے مطابق آن لائن معلومات کے ماحول میں اعتماد کو یقینی بنانے کے لیے صرف مصنوعی ذہانت کے ٹولز پر انحصار کافی نہیں، کیونکہ خود یہ ٹولز اپنی تخلیقات کی شناخت کرنے میں خامیوں کا شکار ہیں۔
