فلسطین، اردن اور تونس کی تین فلمیں اس سال کے آسکر مقابلے کے لیے نامزد کی گئی ہیں، یہ فلمیں فلسطین کی تاریخ، ثقافت اور انسانی جدوجہد کی عکاسی کرتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پہلی فلم ’’فلسطین 36‘‘ ہے، جسے ہدایتکارہ انیمیری جیسیر نے تخلیق کیا ہے۔ یہ فلم 1936 میں یروشلم کے حالات کو پیش کرتی ہے، جب برطانیہ کے زیرِ انتظام فلسطین میں تنازعات شدت اختیار کر رہے تھے اور یہودی ہجرت کا سلسلہ زور پکڑ رہا تھا۔
نیٹ فلکس نے اپنا تھیم پارک متعارف کروا دیا
دوسری فلم ’’بس یہی تمہارا حصہ ہے‘‘ ہے، جسے فلسطینی نژاد امریکی ہدایتکارہ چیریئن دابیس نے بنایا ہے۔ یہ فلم ایک خاندان کی تین نسلوں کی کہانی بیان کرتی ہے اور فلسطینی تجربے کے جذباتی اور ذاتی پہلوؤں کو اجاگر کرتی ہے۔
تیسری فلم ’’ہند رجب کی آواز‘‘ ہے، جسے ہدایتکارہ کاوتھر بن ہانیہ نے بنایا ہے۔ یہ فلم غزہ میں 2024 کے ایک دردناک واقعے پر مبنی ہے، جب پانچ سالہ ہند رجب اپنے والدین کے ساتھ فرار کے دوران جاں بحق ہو گئی تھی۔ فلم میں ہند کی آخری فون کالز کی آڈیو شامل کی گئی ہے، جو اس المیے کی شدت کو بخوبی ظاہر کرتی ہے۔
سحر خان نے صبا قمر کے حق میں آواز بلند کی، آن لائن بدسلوکی پر تنقید
نقادوں کے مطابق یہ تینوں فلمیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ فلسطینی کہانیاں اب صرف خبروں تک محدود نہیں رہیں بلکہ بڑے پردے پر پوری دنیا تک پہنچ رہی ہیں۔
