جاپان کی یونیورسٹی آف ٹوکیو کے ماہرین نے نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ سفید بال صرف عمر رسیدگی کی علامت نہیں، بلکہ یہ جسم کا ایک حفاظتی عمل بھی ہو سکتا ہے جو جلد کے خطرناک کینسر سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
تحقیق کے مطابق بالوں اور جلد کی رنگت پیدا کرنے والے خلیات جب شدید ڈی این اے نقصان کا سامنا کرتے ہیں تو وہ خود کو تقسیم کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور ختم ہو جاتے ہیں، اس عمل کے نتیجے میں بال سفید یا خاکستری ہو جاتے ہیں۔
گردوں کے امراض دنیا کی ٹاپ 10 جان لیوا بیماریوں میں شامل، ابتدائی علامات جانیں
محققین کے مطابق یہ عمل ممکنہ طور پر جسم کا ایک حفاظتی طریقہ ہے تاکہ خطرناک خلیات جلد میں باقی نہ رہیں اور کینسر پیدا نہ ہو۔
یہ تحقیق پروفیسر ایمی کے نِشیمورا اور اسسٹنٹ پروفیسر یاسواکی موہری کی قیادت میں یونیورسٹی آف ٹوکیو کے انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں کی گئی، مطالعہ زیادہ تر چوہوں پر کیا گیا، جس میں محققین نے بالوں کے رنگ پیدا کرنے والے خلیات کے ردعمل کا جائزہ لیا۔
ماہرین کے مطابق سفید بال ہونا خود بخود جلد کے کینسر سے تحفظ کی ضمانت نہیں، بلکہ یہ جسم کے حفاظتی ردعمل کی نشانی ہو سکتا ہے۔ تحقیق ابھی انسانوں پر مکمل طور پر ثابت نہیں ہوئی، لیکن ابتدائی نتائج سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ سفید بال عمر کے ساتھ جسم کے پیچیدہ دفاعی نظام کا حصہ ہو سکتے ہیں۔
ذیابیطس کے مریضوں کو روزانہ انجیکشن کی ضرورت ختم ہو سکتی ہے؟ طبی تحقیق
ماہرین نے خبردار کیا کہ سفید بال ہونے کے باوجود سورج کی نقصان دہ شعاعوں سے بچاؤ کے اقدامات جاری رکھیں، جلد کی حفاظت کریں اور کسی بھی غیر معمولی جلدی تبدیلی پر فوری طبی مشورہ حاصل کریں۔
