متحدہ عرب امارات میں ایک شوہر نے اپنی بیوی کے خلاف واٹس ایپ پر مبینہ دھمکی آمیز پیغام بھیجنے کی بنیاد پر مقدمہ درج کروایا، جس میں اس نے موقف اختیار کیا کہ بیوی کے الفاظ نے اسے ذہنی اذیت پہنچائی۔
شوہر کے مطابق خاتون نے واٹس ایپ پر مبینہ دھمکی آمیز پیغام میں لکھا کہ میں تم پر رحم نہیں کروں گی۔ ابتدائی عدالت نے خاتون کو گھریلو تشدد سے تحفظ کے قانون کے تحت قصوروار قرار دیا اور اسے ایک ماہ کے اندر کمیونٹی سروس، قرآن کے کچھ حصے حفظ کرنے اور عدالتی فیس ادا کرنے کا حکم دیا۔
بلی کے پڑوسی کے گھر بار بار جانے کے باعث مالک پر بڑا جرمانہ
خاتون نے اپیل دائر کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ اس کے الفاظ کسی قابل سزا دھمکی کے زمرے میں نہیں آتے اور اس کیس میں نیت کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔
وفاقی سپریم عدالت نے خاتون کی اپیل منظور کرتے ہوئے فیصلہ دیا کہ ابتدائی عدالت کے شواہد ناکافی تھے، صرف یہ جملہ، جو ازدواجی تنازع کے دوران کہا گیا، بذات خود کسی قابل سزا دھمکی کے مترادف نہیں ہے، گھریلو تشدد کے لیے مادی اور ذہنی دونوں عناصر موجود ہونا ضروری ہیں، جو اس کیس میں نہیں تھے۔
سپریم عدالت نے ابتدائی فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اپیل کی سماعت میں دلائل کی وضاحت ناکافی اور مبہم تھی، جبکہ ہر سزا کے لیے قانونی اور حقیقی بنیادیں واضح ہونی چاہیے۔
عراق میں انوکھی انتخابی مہم، امیدوار خاتون، الیکشن پوسٹرز پر شوہر کی تصویر آویزاں
سپریم عدالت نے نتیجتاً ابتدائی فیصلہ کالعدم قرار دیا اور خاتون کو تمام الزامات سے مکمل طور پر بری کر دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اس کیس میں دھمکی کے لیے ضروری مادی اور ذہنی عناصر موجود نہیں تھے۔
