جدید ٹیکنالوجی نے جہاں انسانی زندگی کے کئی پہلو آسان بنا دیے ہیں، وہیں مصنوعی ذہانت کے پروگرام، جیسے خودکار گفتگو کرنے والے چیٹ بوٹس، انسانی دماغ کی سوچنے، سیکھنے اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت پر بھی اثر ڈال سکتے ہیں۔
اے آر ایکس آئی وی(arXiv repository) کے تحقیقی مخزن میں شائع رپورٹ کے مطابق جب لوگ اپنے کاموں میں مکمل طور پر ایسے پروگراموں پر انحصار کرتے ہیں تو ان کی دماغی سرگرمی میں کمی واقع ہوتی ہے، اس کے برعکس وہ افراد جو اپنی دماغی طاقت پر زیادہ انحصار کرتے ہیں، ان کی سوچنے اور مسئلہ حل کرنے کی صلاحیت بہتر رہتی ہے۔
مارک زکر برگ کا ارتقائی منصوبہ، اے آئی سے طبی شعبے میں بڑی پیش رفت متوقع
طلبہ میں ان خودکار پروگراموں کے استعمال سے تنقیدی سوچ اور خود اعتمادی متاثر ہونے کا خدشہ ہے، خاص طور پر جب وہ مکمل طور پر ان پر انحصار کریں، زبان اور تحریر کے انداز میں بھی تبدیلی دیکھی گئی ہے، جہاں کمپیوٹر کی پیدا کردہ الفاظ اور جملے بول چال اور تحریر کا حصہ بنتے جا رہے ہیں۔
تحقیق میں طلبہ کے تین گروپوں پر مضامین لکھوائے گئے۔ نتائج کے مطابق:
۔ جن طلبہ نے صرف اپنے دماغ پر انحصار کیا، ان کی دماغی سرگرمی سب سے زیادہ تھی۔
۔ جن طلبہ نے مکمل طور پر خودکار پروگراموں پر انحصار کیا، ان کی دماغی کارکردگی کم رہی۔
واٹس ایپ کے چینلز کیلئے دلچسپ فیچر کی آزمائش کا آغاز
۔ ایسے طلبہ جنہوں نے پروگرام کے استعمال کے بعد دوبارہ اپنے دماغ پر کام کیا، ان کی کارکردگی بہتر رہی۔
ماہرین کے مطابق خودکار پروگرام زندگی آسان بناتے ہیں، مگر ان پر مکمل انحصار ذہنی صلاحیتوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ طلبہ کو تحقیق، مطالعہ اور مسئلہ حل کرنے کی مشق مستقل جاری رکھنی چاہیے اور اپنی منفرد سوچ اور تحریر برقرار رکھنی چاہیے۔
