عراق کے شہر کرکوک میں مقامی خاتون امیدوار شیما سامی کے الیکشن پوسٹرز پر ان کی بجائے ان کے شوہر شیخ احمد ابراہیم کی تصاویر آویزاں ہیں، جس پر سوشل میڈیا پر خوب بحث چھڑ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق خاتون تقدم پارٹی کے پلیٹ فارم سے پارلیمانی انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں لیکن شہر کی دیواروں، بل بورڈز اور بینرز پر اُن کے شوہر کی تصاویر نمایاں طور پر لگی ہوئی ہیں، بہت سے شہریوں نے ابتدا میں یہ سمجھا کہ امیدوار شوہر ہیں، جبکہ دراصل انتخاب میں حصہ لینے والی خاتون شیما سامی ہیں۔
لندن پولیس کو غلطی سے رہا کیے گئے 2 قیدیوں کی تلاش
شیخ احمد ابراہیم نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن پوسٹرز پر ان کی تصویر لگانے کا مقصد صرف قبائلی شناخت ظاہر کرنا ہے، ہماری روایتی قبائلی معاشرت میں تصویر سے زیادہ خاندان، قبیلے اور رشتے داری کو اہمیت دی جاتی ہے، اسی لیے یہ فیصلہ کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق اس اقدام پر خواتین کے حقوق کے کارکنان نے سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جب بیلٹ پیپر پر امیدوار خاتون ہیں، تو انتخابی مہم کا چہرہ بھی انہی کو ہونا چاہیے تھا، نہ کہ ان کے شوہر کو۔
ایک مقامی تنظیم کے سربراہ نے کہا اگر وہ عوامی نمائندہ بننا چاہتی ہیں تو انہیں خود عوام کے سامنے آنا چاہیے، جب ہم ان کی شکل تک نہیں جانتے، تو یہ صاف ظاہر کرتا ہے کہ انہیں محض ایک علامتی امیدوار کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔
بلی کے پڑوسی کے گھر بار بار جانے کے باعث مالک پر بڑا جرمانہ
سوشل میڈیا پر اس معاملے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، کچھ لوگوں نے اسے عراقی سیاست میں قبائلی روایات کا غلبہ قرار دیا، جبکہ دیگر نے اسے خواتین کی سیاسی جدوجہد کے لیے ایک دھچکا کہا۔
