نیویارک کی یونیورسٹی آف میسوری کے سائنسدانوں نے نئی تحقیق میں کہا ہے کہ دو قدرتی مادے اگمیٹائن اور تھیامین گلوکوما (کالا پانی) کے مرض کو بینائی ضائع ہونے سے پہلے پہچاننے اور روکنے میں مدد کر سکتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق گلوکوما کے مریضوں کی آنکھ میں پائے جانے والے شفاف مائع میں ان دونوں مادّوں کی مقدار عام لوگوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہے، اس لئے اگر ان مادّوں کی کمی جلدی جان لی جائے تو بیماری کو ابتدائی مرحلے میں ہی روکا جا سکتا ہے۔
خیبرپختونخوا میں ڈینگی کی وبا بے قابو، کیسز کی تعداد 4 ہزار 836 تک جا پہنچی
اب تک گلوکوما کے علاج میں صرف آنکھ کا دباؤ کم کرنے پر توجہ دی جاتی رہی ہے، لیکن اس سے آنکھ کے وہ اعصابی خلیے مکمل طور پر محفوظ نہیں رہ پاتے جو دماغ تک بینائی کے سگنل بھیجتے ہیں۔
سائنسدانوں کے مطابق اگمیٹائن اور تھیامین کی مدد سے مستقبل میں ایسی ادویات یا آئی ڈراپس تیار کی جا سکتی ہیں جو ان خلیوں کو نقصان سے بچائیں اور بینائی برقرار رکھیں۔
ڈینگی بخار کی علامات اور فوری احتیاطی تدابیر
ماہرین کے مطابق مزید تحقیق جاری ہے تاکہ خون کے ایک سادہ ٹیسٹ سے بھی ان مادّوں کی مقدار معلوم کر کے گلوکوما کی بروقت تشخیص ممکن بنائی جا سکتی ہے اور اگر یہ طریقہ کامیاب ہو گیا تو مستقبل میں گلوکوما کے باعث بینائی ختم ہونے کے خطرات میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔
