عالمی سطح پر روایتی اور ثقافتی موسیقی کو زندہ رکھنے والے تین پاکستانی فنکاروں کو آغا خان میوزک ایوارڈ 2025 کے لیے نامزد کر دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق کو آغا خان میوزک ایوارڈ ان فنکاروں کو دیا جاتا ہے جو اپنی موسیقی کے ذریعے ثقافت اور ورثے کو عالمی سطح پر متعارف کراتے ہیں۔
ہاتھ سے لکھا گیا دنیا کا سب سے بڑا قرآن تیار
نامزد فنکاروں میں شامل ہیں:
۔ استاد نصیرالدین صاٰمی: پاکستان کے ممتاز کلاسیکل گلوکار، جو 49 نوٹ ‘سُرتی’ سکیل کے آخری زندہ دستاویزکار ہیں، ان کی کلاسیکی موسیقی نے دنیا بھر میں پاکستانی ثقافت کی نمائندگی کی ہے۔
۔ استاد نور بخش: بلوچستان کے معروف لوک موسیقار، جو بنجو پر مہارت رکھتے ہیں اور پنجاہ سال سے زائد عرصے سے اپنی موسیقی کے ذریعے بلوچی ثقافت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔
۔ جُمَن لطیف (عرف فقیر جُمَن شاہ): سندھ کی روحانی موسیقی کے ماہر، خاص طور پر شاہ عبدالطیف بھٹائی کی شاعری کو اپنی آواز کے ذریعے عالمی سطح پر متعارف کرانے والے۔
کیا زہران ممدانی نیویارک کے پہلے مسلم میئر بن پائیں گے؟ فیصلہ آج ہوگا
واضح رہے کہ یہ ایوارڈ 2018 میں پرنس کریم آغا خان چہارم نے متعارف کروایا تھا تاکہ موسیقی کے ذریعے ثقافتی ہم آہنگی اور عالمی شعور کو فروغ دیا جا سکے، آغا خان میوزک ایوارڈ کا مقصد ایسے فنکاروں کو سراہنا ہے جو موسیقی کے ذریعے انسانی روابط اور ثقافت کی حفاظت میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔
پاکستانی فنکاروں کی اس نامزدگی کو ملک میں ثقافتی موسیقی کے فروغ کے حوالے سے ایک بڑا اعزاز قرار دیا جا رہا ہے، اور یہ امید کی جا رہی ہے کہ یہ عالمی سطح پر پاکستانی موسیقی کے معیار اور ورثے کو مزید پہچان دلائے گی۔
