ایمازون(amazon) اور اوپن اے آئی(open AI) کے درمیان 38 ارب ڈالر کا معاہدہ طے پاگیا،معاہدے کے تحت اوپن اے آئی کو ایمازون ویب سروسز تک رسائی حاصل ہو گی۔
اوپن اے آئی 7 سال تک ایمازون کی کلاوڈ سروسز استعمال کرے گا۔اوپن اے آئی کو ہزاروں اینویڈیا گرافکس پروسیسرز تک بھی رسائی حاصل ہوگی۔
چیٹ جی ٹی پی کی بانی کمپنی اوپن اے آئی کے ہیک ہونے کا انکشاف
سی ای او،اوپن اے آئی کا کہنا ہے کہ اسٹارٹ اپ 30 گیگاواٹ کمپیوٹنگ وسائل تیار کرنے کے لیے 1.4 ٹریلین ڈالر خرچ کرنے کا عزم رکھتا ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ دنیا کی طاقتور ترین این ویڈیا (Nvidia) اے آئی چِپس اب صرف امریکی کمپنیوں کے لیے دستیاب ہوں گی، جبکہ چین اور دیگر ممالک کو ان جدید ترین ٹیکنالوجیز تک رسائی نہیں دی جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہم اپنی سب سے جدید چِپس کسی اور ملک کو نہیں دیں گے۔ صرف امریکا کے پاس ہی بلیک ویل (Blackwell) چِپس ہوں گے۔
امریکا کا اے آئی کیلئے اربوں ڈالر کا بڑا منصوبہ
ماہرین کے مطابق یہ بیان واشنگٹن کی چِپ برآمدی پالیسی میں ممکنہ سختی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ اس فیصلے کے بعد چین سمیت کئی ممالک کے لیے جدید سیمی کنڈکٹرز کی فراہمی مزید مشکل ہو جائے گی۔
این ویڈیا، جو حال ہی میں دنیا کی امیر ترین ٹیک کمپنی بن چکی ہے، مصنوعی ذہانت (AI) کی دوڑ میں مرکزی کردار ادا کر رہی ہے۔ اس کے بلیک ویل چِپس کلاؤڈ کمپیوٹنگ، روبوٹکس اور دفاعی صنعتوں میں بڑی مانگ رکھتے ہیں۔
