جاپان کی ٹوکیو یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے بغیر حرارت یا دباؤ کے مصنوعی ہیرے بنانے کا نیا اور آسان ترین طریقہ دریافت کیا ہے۔
سائنس ایڈوانسز نامی جریدے میں شائع تحقیق کے مطابق سائنس دانوں نے ایک خاص قسم کے نامیاتی سالموں (organic molecules) پر تجربہ کیا جنہیں عام طور پر کاربن سے بھرپور مرکبات کہا جاتا ہے، ان سالموں کو الیکٹران بیم (electron beam) کے ذریعے ایک خاص زاویے سے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں وہ نینو سطح پر ہیروں کی ساخت میں تبدیل ہو گئے۔
فیکٹری ورکر نے غلطی سے ساتھیوں کی تنخواہیں وصول کر لیں، رقم واپس کرنے سے انکار
عام طور پر قدرتی یا صنعتی ہیرے بنانے کے لیے انتہائی بلند درجہ حرارت (تقریباً 1,500 ڈگری سیلسیس) اور بھاری دباؤ کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن جاپانی ماہرین نے پہلی بار یہ عمل کمرہ حرارت پر مکمل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ نیا طریقہ مستقبل میں کوانٹم ٹیکنالوجی، الیکٹرانکس، حیاتیاتی تحقیق، اور مادّی سائنس کے میدانوں میں بڑی تبدیلی لا سکتا ہے، نینو سطح کے ہیرے نہ صرف زیادہ مستحکم ہوتے ہیں بلکہ یہ برقی اور نوری توانائی کے لیے بھی انتہائی مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔
فرانس کے شہر لیون میں کمانڈو ایکشن کی طرز پر ڈکیتی، 4 ارب روپے مالیت کا سونا غائب
تحقیق کے سربراہ پروفیسر کوجی کوماتسو نے کہا کہ یہ دریافت نہ صرف سائنسی نقطہ نظر سے اہم ہے بلکہ اس سے یہ سمجھنے میں بھی مدد مل سکتی ہے کہ خلا میں قدرتی ہیرے کیسے وجود میں آتے ہیں، کیونکہ وہاں بھی زیادہ تر حالات میں حرارت اور دباؤ کم ہوتے ہیں۔
