امریکا کی ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی اور وفاقی توانائی کے محکمے کے سائنسدانوں نے زمین کے سب سے نایاب عناصر میں سے ایک، ایسٹیٹائن 211، کو کینسر کے خلیات کو تباہ کرنے کے لیے استعمال کرنے کا طریقہ دریافت کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایسٹیٹائن 211 ایک ریڈی ایکٹو آئسوٹوپ ہے جو خاص طور پر کینسر کے خلیات کو نشانہ بناتا ہے اور صحت مند خلیات کو کم نقصان پہنچاتا ہے، یہ عنصر اپنی تابکاری کے ذریعے الفا ذرات خارج کرتا ہے، جو خلیے کے اندر جا کر توانائی منتقل کرتے ہیں اور کینسر کے خلیات کو ختم کر دیتے ہیں، جبکہ ارد گرد کی صحت مند بافتوں پر اثر کم ہوتا ہے۔
ڈبلیو ایچ او اور پاکستان کی شراکت، بچوں کے تحفظ کیلئے قومی ویکسینیشن مہم کا آغاز
سائنسدانوں کے مطابق یہ ہدفی الفا تھراپی کینسر کے علاج میں ایک نئی اور مؤثر تکنیک ثابت ہو سکتی ہے۔
محققین نے اس عنصر کی تیاری، صفائی اور طبی مراکز تک پہنچانے کے جدید خودکار نظام بھی تیار کیے ہیں، جو اس کے استعمال کو آسان بناتے ہیں، اگرچہ ابھی انسانوں پر اس کا ابتدائی تجربہ جاری ہے، لیکن جاپان، یورپ اور امریکا کے مختلف تحقیقی ادارے اس کی صلاحیت جانچ رہے ہیں۔
محققین کے مطابق ایسٹیٹائن 211 کی محدود دستیابی ایک بڑی رکاوٹ ہے، لیکن نئی ٹیکنالوجی کی مدد سے اسے اب طبی استعمال کے لیے ممکن بنایا گیا ہے۔
