بالی ووڈ اداکار عمران ہاشمی نے اپنی نئی فلم حق پر ہونے والے سوالات کے جواب میں واضح کیا ہے کہ آنے والی فلم کا مقصد کسی بھی کمیونٹی کو نشانہ بنانا یا مسلمانوں کی بدنامی کرنا نہیں ہے۔
عمران ہاشمی نے حالیہ انٹرویو میں کہا کہ فلم حق کا موضوع حساس ضرور ہے، تاہم اس کا نقطۂ نظر مکمل طور پر متوازن ہے۔
فیکٹ چیک: سلمان خان کا نام پاکستانی فورتھ شیڈول میں شامل ہونے کا دعویٰ جھوٹا قرار
انہوں نے کہا میں نے اس اسکرپٹ کو بطور فنکار سمجھا اور اپنی برادری کے حوالے سے بھی حساسیت کا خیال رکھا۔ فلم میں کسی مذہب یا کمیونٹی پر کوئی انگلی نہیں اٹھائی گئی اور نہ ہی کسی پر فیصلہ صادر کیا گیا ہے۔
عمران ہاشمی نے مزید کہا کہ بطور لبرل مسلمان فلم کے پیغام سے مطمئن ہوں، اگر اس فلم میں کسی کمیونٹی کی تضحیک یا بدنامی ہوتی تو میں اس کا حصہ کبھی نہ بنتا، میں ایک ایسی فیملی سے تعلق رکھتا ہوں جس میں مختلف مذاہب کے لوگ شامل ہیں، میں نے ایک ہندو خاتون سے شادی کی ہے، اور میرے بیٹے نماز بھی پڑھتے ہیں اور پوجا بھی کرتے ہیں، یہی میرا سیکولر پس منظر ہے۔
گلوکار عاصم اظہر کے انسٹا گرام اکاؤنٹ سے تمام پوسٹیں ڈیلیٹ ، مداح حیرت میں مبتلا
ذرائع کے مطابق فلم حق کی کہانی شاہ بانو کیس سے متاثر ہے، جو بھارت میں مسلمان خواتین کے طلاق کے بعد نفقے (خرچ) کے حق سے متعلق ایک تاریخی مقدمہ تھا۔
فلم کی ہدایتکاری سوپرن ایس ورما نے کی ہے، جبکہ اداکارہ یامی گوتم مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں۔ فلم جلد سینما گھروں میں ریلیز کی جائے گی۔
