بی بی سی، این پی آر سمیت بائیس بین الاقوامی میڈیا اداروں کی مشترکہ تحقیق میں ثابت ہوا ہے کہ مصنوعی ذہانت سے چلنے والے چیٹ بوٹس تقریباً پینتالیس فیصد مواقع پر خبروں کو غلط یا ادھورے انداز میں پیش کرتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق مشہور چار چیٹ بوٹس چیٹ جی پی ٹی، مائیکروسافٹ کوپائلٹ، گوگل جیمِنی اور پرپلیکسی اے آئی کے جوابات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا.
2025 میں کون سے اے آئی کورسز فائدہ مند؟ 10 بہترین پروگراموں کی فہرست
محققین نے ان پلیٹ فارمز سے مختلف خبری موضوعات پر سوالات کئے اور ان کے جوابات کو حقائق کی درستگی، ماخذ کی فراہمی اور سیاق و سباق کے لحاظ سے جانچا۔
تحقیق کے مطابق تقریباً اکتیس فیصد جوابات میں حوالہ جات کی کمی پائی گئی، جب کہ بیس فیصد جوابات میں واضح حقائق کی غلطیاں موجود تھیں. ماہرین نے کہا کہ یہ غلطیاں کسی ایک پلیٹ فارم تک محدود نہیں بلکہ ایک عالمی اور نظامی مسئلہ بن چکی ہیں۔
یوٹیوب پر اے آئی کانٹینٹ اور ڈیپ فیک ویڈیوز کو خطرہ، بایومیٹرک شناخت کروانا لازمی
رپورٹ میں خبردار کیا کہ اس رجحان سے عوامی اعتماد کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور جھوٹی خبروں کے پھیلاؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
ماہرین نے زور دیا کہ مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کے بڑھتے استعمال کے ساتھ خبروں کی تصدیق اور حقائق کی جانچ پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گئی ہے۔
