ویڈیو اسٹریمنگ اور شیئرنگ پلیٹ فارم یوٹیوب نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے بنائی گئی جعلی ویڈیوز کی شناخت کے لیے نئی ڈیپ فیک ڈیٹیکشن ٹیکنالوجی متعارف کرا دی ہے۔
یوٹیوب کے مطابق اس سہولت کے ذریعے اہل تخلیق کار اپنی شکل یا آواز استعمال کرنے والی غیر مجاز ویڈیوز کو پہچان کر ان کے خلاف کارروائی کر سکیں گے، یہ فیچر ابتدائی طور پر چند تخلیق کاروں کے لیے متعارف کرایا گیا تھا لیکن اب اگلے چند مہینوں میں اسے یوٹیوب پارٹنر پروگرام کے تمام اہل صارفین کے لیے دستیاب کر دیا جائے گا۔
یوٹیوب کا نیا خودکار لب سنک فیچر، ویڈیوز ترجمہ شدہ آواز کے ساتھ ہم آہنگ
یوٹیوب کے مطابق نئے ٹول کے تحت تخلیق کاروں کو لائکنس سیکشن میں ایسی ویڈیوز کی فہرست دکھائی جائے گی جن میں ان کی شبیہ یا آواز کو اے آئی سے مصنوعی طور پر بنایا گیا ہو، صارف اپنی بایومیٹرک شناخت اور فوٹو آئی ڈی کے ذریعے توثیق کے بعد ایسی ویڈیوز کو حذف کرنے کی درخواست جمع کروا سکتے ہیں۔
کمپنی کے مطابق یہ اقدام تخلیق کاروں کو غلط معلومات اور ان کی شناخت کے غلط استعمال سے بچانے کے لیے اٹھایا گیا ہے، ایسی ویڈیوز جو کسی شخص کی اجازت کے بغیر اس کی نمائندگی کرتی ہوں، پرائیویسی پالیسی کے تحت ہٹائی جا سکیں گی۔
واٹس ایپ میں اسٹیٹس اپ ڈیٹس کے لیے اے آئی امیج جنریٹر متعارف
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں ہالی ووڈ اداکار ٹام ہینکس نے بھی ایک جعلی اشتہار کی نشاندہی کی تھی جس میں ان کی شکل کو اے آئی کے ذریعے استعمال کیا گیا تھا۔ ماہرین یوٹیوب کے اس نئے اقدام کو تخلیق کاروں کے حقوق کے تحفظ کی سمت ایک مثبت قدم قرار دے رہے ہیں۔
