امریکی گرافکس پروسیسنگ یونٹس اور مصنوعی ذہانت کے حل تیار کرنے والی کمپنی نیویڈیا کے سی ای او جینسن ہوانگ نے کہا ہے کہ اے آئی کے بڑھتے اثرات کے ساتھ پلمبرز اور الیکٹریشنز کی طلب میں نمایاں اضافہ ہو رہا ہے۔
معروف میڈیا ادارے کمپلیکس نے اپنی ایکس اکاؤنٹ میں پوسٹ شیئر کیا ہے ، جس میں جینسن ہوانگ نے مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے اثرات اور ہنر مند پیشوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے۔
وکی پیڈیا کی مقبولیت میں بڑی کمی
نیویڈیا کے سی ای او کے مطابق اے آئی صرف ٹیکنالوجی کی نوکریوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کے بڑھتے ہوئے رجحان سے پلمبرز، الیکٹریشنز اور بڑھئیوں کی طلب میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

جینسن ہوانگ کے مطابق دنیا بھر میں مصنوعی ذہانت کے ڈیٹا سینٹرز کی توسیع کے لیے ماہِر ہاتھوں کی ضرورت ہے، اور یہی لوگ مستقبل میں اس شعبے کو سہارا دیں گے، مستقبل کی ٹیکنالوجی دونوں، دماغ اور ہاتھوں پر منحصر ہوگی۔
کمپلیکس کی پوسٹ کے مطابق ہوانگ نے جنریشن زی سے کہا ہے کہ وہ ہنر مندی کے اسکولز پر غور کریں، کیونکہ یہ صنعت 2023 تک 7 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، اوپن اے آئی اور انفراسٹرکچر میں 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔
پاکستان نے پہلا ہائپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ خلا میں روانہ کر دیا
ماہرین کے مطابق اگلی نسل کے کروڑ پتی وہ ہوں گے جو نہ صرف ٹیکنالوجی میں ماہر ہوں گے بلکہ ہنر مند پیشوں میں بھی مہارت رکھتے ہوں گے، کیونکہ مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی دنیا میں یہ دونوں صلاحیتیں ایک ساتھ ضروری ہیں۔
