بھارتی کرکٹ بورڈ(bcci) نے پاک بھارت میچز کو مجبوری قرار دیدیا،کہتے ہیں باتیں کرنا آسان ہے مگر پاک بھارت میچ نہ کرانے پر اسپانسر زاور براڈ کاسٹرز راضی نہیں ہوتے۔
بی سی سی آئی کے آفیشل نے بھارتی اخبار کو ایک انٹرویو میں اپنے بورڈ اور حکام کی مجبوری کا بھانڈا پھوڑ دیا۔
آزاد کشمیر میں کل عام تعطیل کا اعلان کردیا گیا
بھارتی اخبار کو کرکٹ کے اعلیٰ عہدیدار نے بتایا کہ باتیں کرنا آسان ہے مگر پاک بھارت میچ نہ کرانے پر اسپانسرز اور براڈ کاسٹرز راضی نہیں ہوتے،برطانوی اخبار کے مطابق ہر پاک بھارت میچ سے تقریباً 500 ملین ڈالرز کی آمدنی ہوتی ہے۔
دوسری جانب برطانوی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان مائیک ایتھرٹن نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو مقابلوں کے دوران پاک بھارت میچ نہ رکھنے کی تجویز دے دی۔
ایشیا کپ کے دوران پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث سابق برطانوی کپتان نے کہا کہ آئی سی سی ایونٹس کے دوران پاک بھارت میچز کا انتظام نہیں کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ آئی سی سی کے ایونٹس میں پاکستان اور بھارت کے میچز شیڈول کرنے کی وجہ سفارتی اور معاشی ہو سکتی ہے، انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ دونوں ملکوں کے تعلقات میں کمی آنے کی وجہ سے یہ تاثر ختم ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ آئی سی سی ایونٹ میں پاکستان اور بھارت کے مقابلے کا مالی طور پر بڑا اثر ہے، ان کے مقابلے کی وجہ سے ہی شاید ایک اندازے کے مطابق موجودہ سرکل میں براڈ کاسٹ رائٹس 3 ارب ڈالرز کے رہے۔
نکاح النفحۃ شرعاً حرام قرار،مصری دار الافتاء کا فیصلہ
ان کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کے درمیان مقابلہ بارڈر ٹینشن کیلئے پراکسی بن گیا ہے، پہلے کرکٹ کو ڈپلومیسی کے پہیے کے طور لیا جاتا تھا لیکن اب یہ واضح طور پر کشیدگی اور پروپیگنڈا کیلئے پراکسی ہے۔
انگلینڈ کے سابق کپتان نے مزید کہا کہ دونوں ٹیموں کے درمیان مقابلے کو ہمیشہ مالی طور پر دیکھا گیا ہے، ان کا کہنا تھا کہ آئندہ ڈراز ٹرانسپیرنٹ ہونے چاہئیں۔ڈراز کی صورت میں اگر دونوں ٹیموں کا مقابلہ نہیں ہوتا تو پھر ایسا ہی ہونا چاہیے۔ ایشیا کپ میں ہینڈ شیک تنازعے اور بھارت کی جانب سے ٹرافی نہ لینے پر انگلینڈ کے سابق کپتان نے آئی سی سی سے یہ مطالبہ کیا ہے۔
