نئی دہلی: بھارتی ریاست مدھیہ پردیش میں کھانسی کا شربت پینے سے 11 بچوں کی موت واقع ہو گئی۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق بھارتی ریاست مدھیہ پردیش کے ضلع چھندواڑہ میں بچوں کے لیے کھانسی کا شربت تجویز کرنے والے ڈاکٹر کو گرفتار کر لیا گیا۔ اور واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
حکام کے مطابق پیڈیاٹریشن سرکاری ڈاکٹر پروین سونی نے اپنے نجی کلینک میں آنے والے بچوں کو کولڈرف سیرپ تجویز کیا تھا۔ جسے پینے سے بچوں کی حالت بگڑ گئی اور موت واقع ہو گئی۔
انتظامیہ نے کولڈرف سیرپ بنانے والی کمپنی سریسان فارماسیوٹیکلز کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ جبکہ حکومت کی جانب سے کولڈرف سیرپ کے علاوہ کمپنی کی دیگر مصنوعات کی فروخت پر پابندی عائد کر دی۔
ذرائع کے مطابق یہ اموات مبینہ طور پر زہریلی کھانسی کا شربت پینے کے بعد ہوئی تھیں۔
یہ بھی پڑھیں: جارجیا میں حکومت مخالف مظاہرے شدت اختیار کر گئے، صدارتی محل پر حملہ
حکام کے مطابق لیبارٹری رپورٹ میں کولڈرف سیرپ کے نمونے میں 48.6 فیصد ڈائی ایتھائلین گلائیکول پایا گیا ہے۔ جو نہایت زہریلا کیمیکل ہے۔ اور اسی کی وجہ سے متاثرہ بچوں کے گردے ناکام ہو گئے، بچوں کے گردوں کی بایوپسی میں بھی ڈائی ایتھائلین گلائیکول کی تصدیق ہوئی ہے۔
