امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے غیر ملکی ماہر کارکنوں کے لیے H-1B ویزا کی فیس بڑھا کر ایک لاکھ ڈالر کرنے کا فیصلہ عدالت میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔
یہ مقدمہ سان فرانسسکو کی وفاقی عدالت میں یونینز، تعلیمی اداروں، مذہبی تنظیموں اور کمپنیوں کے اتحاد نے دائر کیا ہے۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کو قانون کے تحت اس ویزا پروگرام میں ایسی تبدیلی کرنے کا اختیار نہیں ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام امریکی ورکرز کی نوکریوں کی حفاظت اور کم تنخواہ پر غیر ملکی بھرتی کو روکنے کے لیے ہے۔ تاہم، ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ امریکہ میں مہارت کی کمی کو پورا کرنے والے نظام کو نقصان پہنچائے گا۔
پاکستانیوں کو اہم ملک کی جانب سے ویزا آن ارائیول کی سہولت ملنے کا امکان
فی الحالH-1B ویزا حاصل کرنے کے لیے کمپنیاں تقریباً 2,000 سے 5,000 ڈالر فیس ادا کرتی ہیں۔ ٹرمپ کے نئے حکم کے مطابق اب کوئی بھی نیا H-1B ویزا تبھی ملے گا جب کمپنی 100,000 ڈالر اضافی فیس ادا کرے گی۔
ادھر، عدالت میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ یہ نیا حکم امریکی آئین کے خلاف ہے، کیونکہ ٹیکس لگانے یا فیس بڑھانے کا اختیار صرف کانگریس کو حاصل ہے۔
ٹرمپ کو ایک اور جھٹکا
دوسری جانب ایک امریکی جج نے صدر ٹرمپ کو اوریگن ریاست کے شہر پورٹ لینڈ میں 200 نیشنل گارڈز تعینات کرنے سے عارضی طور پر روک دیا ہے۔
جرمن قونصل خانے نے کراچی میں ویزا سروس دوبارہ شروع کردی
جج کارن امیرگٹ نے کہا کہ مظاہروں کی شدت اتنی نہیں تھی کہ فوج بھیجی جاتی، اور صدر کا فیصلہ حقائق کے برعکس تھا۔ وائٹ ہاؤس نے اس فیصلے کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
