ترکی کے 36 شہریوں سمیت صمودفلوٹیلا کے137 کارکنوں کو اسرائیل سے بے دخل کر دیا ، کارکنوں پر بدترین تشدد کا انکشاف ہوا ہے۔
استنبول پہنچنے کے بعد انسانی حقوق کے کارکنوں نے بتایا کہ اسرائیلی فورسز نے ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ کے ساتھ بدسلوکی کی ، گریٹا کوزمین پرگھسیٹا اوراسرائیلی پرچم کوچومنے پر مجبور کیا گیا۔
صمود فلوٹیلا سے حراست میں لئے گئے کارکنوں کو اسرائیل کی جیل منتقل کردیا گیا، عرب میڈیا
ترک صحافی کا کہنا تھا کہ اسرائیلی فورسز کوگریٹا تھنبرگ کواذیت دیتے دیکھا،انہیں اسرائیلی پرچم زبردستی چومنے پر مجبور کیا گیا۔ ملائیشیا کے ایک کارکن نے بتایا کہ قیدیوں کو خوراک، صاف پانی اور دوائیں نہیں دی گئیں، ہمیں 3 دن بھوکا رکھا گیا۔
استنبول پہنچنے والے ایک اور ترک کارکن آیکن کانتوگلونے اسرائیلی حراست میں بدسلوکی کی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ حراست میں لینے کے بعد اسرائیلی اہلکار نے کہا “تم اسرائیل میں ہو، اب کسی بھی جگہ غزہ کا نام نہیں ہے۔
اسرائیل نے غزہ پر بمباری عارضی طور پر روک دی ہے، ٹرمپ کا دعویٰ
آیکن کانتوگلو کا کہنا تھا کہ ہمیں جانوروں کے پنجرے نما کمروں میں بند کیا گیا، دیواروں پر خون سے عربی میں بچوں کے نام لکھے تھے ، ہمیں 40 گھنٹوں تک بھوکا پیاسا رکھا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ترک کارکنوں کو برہنہ کرکے تلاشی لی گئی جبکہ گریٹا تھنبرگ کے ساتھ بھی بہت برا سلوک کیا گیا۔
