تل ابیب: اسرائیل نے ڈونلڈ ٹرمپ امن منصوبے کے پہلے مرحلے پر فوری عمل کرتے ہوئے غزہ پر قبضے کا منصوبہ روک دیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے۔ کہ اسرائیلی فوج کے چیف آف اسٹاف کی زیرصدارت حالیہ پیشرفت کی روشنی میں اجلاس ہوا۔ جس میں ڈپٹی چیف آف اسٹاف، آپریشنز، انٹیلی جنس اور پلاننگ ڈائریکٹوریٹ کے سربراہان سمیت دیگر نے شرکت کی۔
اسرائیل کے چیف آف اسٹاف نے کہا کہ اسرائیل نے غزہ پر فوری قبضے کا منصوبہ روک دیا ہے۔ اور یرغمالیوں کی رہائی کے منصوبے پر عملدرآمد کی تیاری آگے بڑھانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی افواج کی حفاظت اولین ترجیح ہے۔ اور افواج کی حفاظت کے لیے آئی ڈی ایف کی تمام صلاحیتیں سدرن کمانڈ کو تفویض کی جائیں گی۔
دوسری جانب اسرائیلی مغویوں کے اہل خانہ نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ لیکن نیتن یاہو مغویوں کی واپسی کے لیے فوری مذاکرات شروع کریں۔
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے آفس سے جاری بیان میں کہا گیا کہ اسرائیل مغویوں کی رہائی کے لیے منصوبے کے پہلے مرحلے پر فوری عمل درآمد کی تیاری کر رہا ہے۔ جنگ کے خاتمے کے لیے کام جاری رکھیں گے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وژن سے مطابقت رکھتے ہیں۔
اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکومت نے آئی ڈی ایف کو غزہ شہر پر قبضے کے منصوبے کو فوری روکنے کا حکم دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: حماس کا ٹرمپ کے امن منصوبے پر عملدرآمد کا اعلان
دوسری جانب امریکی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اسرائیل اپنی کارروائیوں کو غزہ پٹی میں دفاع میں تبدیل کرے گا۔ جبکہ غزہ شہر پر قبضہ کرنے کے آپریشن کو روک دیا جا ئے گا۔
واضح رہے کہ حماس نے امریکی صدر کے غزہ امن منصوبے پر عملدر آمد کا اعلان کر دیا ہے۔
