دنیا کے خاتمے سے متعلق افواہوں نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ دعویٰ تیزی سے پھیل رہا ہے کہ ایک دیوقامت دم دار ستارہ (شہابِ ثاقب) زمین کی طرف بڑھ رہا ہے اور انسانیت کے لیے ایک بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔
تاہم، ماہرینِ فلکیات اور عالمی تحقیقی اداروں نے ان خبروں کو بے بنیاد اور غلط قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ زمین کو اس ستارے سے کسی قسم کا خطرہ لاحق نہیں۔
افواہوں کی شروعات کیسے ہوئیں؟
یہ افواہیں 29 ستمبر کو نیویارک پوسٹ میں شائع ہونے والی ایک خبر کے بعد زور پکڑ گئیں۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک صارف نے پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ سائنس دانوں نے ایک پراسرار خلائی جہاز کو زمین کی طرف آتا ہوا دیکھا ہے، مگر کوئی اس پر بات کیوں نہیں کر رہا؟
اس کے بعد کئی صارفین نے مختلف قیاس آرائیاں شروع کر دیں۔ ایک صارف نے لکھا کہ “اسی لیے تمام جنرلز اکٹھے ہو رہے ہیں!” — یہ اشارہ 30 ستمبر کو امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کی زیرِ صدارت ہونے والی فوجی میٹنگ کی طرف تھا۔
ایک اور پوسٹ میں رچرڈ روپرنامی صارف نے لکھا کہ “ایک دیوقامت دم دار ستارہ 1 لاکھ 30 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے زمین کی طرف بڑھ رہا ہے! دو مشن تیار ہیں، ایک ’مسیحا کریو‘ اور دوسرا ’فریڈم‘ و ’انڈیپنڈنس‘ ٹیموں پر مشتمل ہے — ہم اسے روک سکتے ہیں!
ان بیانات کے بعد افواہیں مزید پھیل گئیں، اور کچھ صارفین نے تو یہاں تک دعویٰ کر دیا کہ یہ کوئی شہابِ ثاقب نہیں بلکہ **خلائی جہاز** ہے جو زمین کی سمت بڑھ رہا ہے۔
This is why all the generals are gathering!!!!!! https://t.co/qzeeUAiR2P
— Dr. Disclosure (@Docneuroeo) September 29, 2025
اصل حقیقت کیا ہے؟
الجزیرہ کی فیکٹ چیکنگ ایجنسی SANAD نے ان تمام دعوؤں کی تحقیقات کیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ دم دار ستارہ تھری آئی/ایٹلس (3I/ATLAS) ہے، جسے ناسا کے اٹلس ٹیلی اسکوپ نے یکم جولائی 2025 کو دریافت کیا تھا۔
ناسا کے مطابق، یہ ستارہ 21 جولائی کو زمین کے قریب ترین مقام پر آیا تھا، تاہم اس وقت بھی وہ 270 ملین کلومیٹر کے فاصلے پر تھا یعنی زمین اور سورج کے درمیانی فاصلے سے ڈھائی گنا زیادہ دور۔
یہ ستارہ رواں برس 30 اکتوبر کو سورج کے قریب ترین مقام تک پہنچے گا، لیکن زمین کے لیے اس سے کسی قسم کا خطرہ موجود نہیں۔
عالمی اداروں کی تصدیق
ناسا اور یورپی خلائی ایجنسی (ESA) دونوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ دم دار ستارہ نہ زمین سے ٹکرائے گا، نہ کسی اور سیارے سے۔
ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کے مطابق، 3I/ATLAS تقریباً 2 لاکھ 10 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ (130,500 میل فی گھنٹہ) کی رفتار سے خلا میں سفر کر رہا ہے، جو بین النجمی اجسام کے لیے اب تک کی سب سے زیادہ رفتاروں میں سے ایک ہے۔
ماہرین کے مطابق سوشل میڈیا پر پھیلنے والی یہ خبریں محض افواہیں ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ ناسا اور ESA دونوں اداروں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ زمین مکمل طور پر محفوظ ہے، لہٰذا عوام کو افواہوں پر یقین کرنے کے بجائے مستند سائنسی ذرائع پر بھروسہ کرنا چاہیے۔
