اسرائیلی فوج نے غزہ کی جانب رواں گلوبل صمود فلوٹیلا میں شامل آخری امدادی کشتی کو بھی قبضے میں لے لیا ہے۔
میری نیٹ نامی کشتی غزہ سے80 کلو میٹر دور تھی کہ اسرائیل نے دھاوا بولا جس کے بعد امدادی کشتی کی لائیو اسٹریم بھی بند ہو گئی۔
اس سے قبل اسرائیل صمد فلوٹیلا (Golbal Sumud Flotilla) میں شامل 40 کشتیوں کو قبضے میں لے چکا ہے جو غزہ کے لیے امداد لے کر جا رہی تھیں۔ اس دوران 450 سے زائد غیر ملکی کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا جن میں سویڈن کی مشہور ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل ہیں۔
پاکستان سے جماعت اسلامی کے سابق سینیٹر مشتاق احمد خان بھی گرفتار کارکنوں میں شامل ہیں۔
Israel is attacking flotilla boats with water cannons.
ALL THIS IN FRONT OF THE ENTIRE WORLD IN TOTAL IMPUNITY‼️#GlobalSumudFlotilla pic.twitter.com/sztd5lP0YY
— Earth Hippy 🌎🕊️💚 (@hippyygoat) October 1, 2025
وقوعہ سے سامنے آنے والی کئی لائیو ویڈیوز میں دکھایا گیا کہ اسرائیلی فوجی کشتیوں پر چڑھ رہے ہیں، جبکہ لائف جیکٹ پہنے کارکنوں نے اپنے ہاتھ ہوا میں بلند کیے ہوئے ہیں۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کی ویڈیو میں گریٹا تھنبرگ کو فوجیوں کے درمیان ڈیک پر بیٹھا دکھایا گیا ہے۔
عالمی ردعمل
اس واقعے پر یورپ کے کئی شہروں کے ساتھ کراچی، بوینس آئرز اور میکسیکو سٹی میں بھی فلسطینی حمایت میں احتجاج ہوا۔ اٹلی میں انسانی حقوق کے کارکنوں نے آج ہڑتال بھی کر رکھی ہے۔
Milan, Italy strongly showed up for #Palestine and the #GlobalSumudFlotilla last night!#GlobalSumudFilottilla pic.twitter.com/zwD0K3Tf3i
— Global Sumud Flotilla ✨ (@GSMFlotilla) October 3, 2025
پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف، ترک صدر رجب طیب ایردوآن، جنوبی افریقہ کے صدر سرل رامافوسا سمیت بیشتر عالمی رہنماؤں نے اسرائیل کی کارروائی کو ظلم قرار دیا اور کہا کہ یہ امن کی امیدوں کو ختم کرنے کی کوشش ہے۔
اسرائیل کا صمود فلوٹیلا روکنا انسانی اقداراورعالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، دفترخارجہ
انہوں نے نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ فلوٹیلا میں موجود شہریوں کو فوری رہا کرے جن میں سابق صدر نیلسن منڈیلا کے پوتے بھی شامل ہیں۔
کارکنوں کی اپیل
22 سالہ گریٹا نے پہلے سے ریکارڈ شدہ ویڈیو میں کہا کہ اگر آپ یہ ویڈیو دیکھ رہے ہیں تو مجھے اسرائیلی فورسز نے زبردستی گرفتار کر لیا ہے۔ ہمارا مشن پرامن اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق تھا۔
اسی طرح کی ویڈیو سینیٹر مشتاق احمد نے بھی جاری کی ہے جس میں انہوں نے پوری پاکستانی قوم سے اپیل کی ہے کہ ہم نسل کشی رکوانے اور انسانی امداد کی راہداری کو کھولنے کے مقصد اور مشن کے تحت یہاں آئے ہیں۔ اس مشن کو آگے بڑھانے کے لیے آپ اپنے تعلیمی اداروں میں، بازاروں میں، بار کونسلز میں، سڑکوں پر، ہر جگہ آواز اٹھاتے رہیں۔
گلوبل صمود فلوٹیلا کے گرفتار کارکنوں کو یورپ ڈی پورٹ کیا جائے گا، اسرائیلی حکام
اس ویڈیو کے آپ تک پہنچنے سے پہلے ہم پر اسرائیلی حملہ ہو چکا ہو گا اور ہم قتل یا گرفتار کر لیے گئے ہوں گے. میں اس موقع پر پوری قوم سے ایک بار پھر کہوں گا کہ ہم جس مقصد اور جس مشن کے تحت یہاں آئے ہیں – نسل کشی کو رکوانا، انسانی امداد کی راہداری کو کھولنا – اس مشن کو آگے بڑھانے کے… pic.twitter.com/bMDcloqzGx
— Senator Mushtaq Ahmad Khan | سینیٹر مشتاق احمد خان (@SenatorMushtaq) October 3, 2025
اسرائیلی وزارت خارجہ نے کہا کہ گرفتار کیے گئے افراد کو اشدود بندرگاہ پر لے جایا جا رہا ہے اور سب کی صحت ٹھیک ہے۔ مزید کہا گیا کہ اگر کوئی کشتی بلا اجازت قریب آئی تو اسے بھی روکا جائے گا۔
فلوٹیلا کا مقصد اور پس منظر
یہ امدادی کشتیوں کا قافلہ اگست کے آخر میں روانہ ہوا تھا تاکہ غزہ میں دو سال سے جاری محاصرے کے باعث پھنسے ہوئے لوگوں کو دوائیں اور خوراک پہنچائی جا سکے۔ اس میں پارلیمنٹیرینز، وکلاء اور دیگر کارکن شامل تھے جو اسرائیل کے محاصرے کی شدید مخالفت کر رہے ہیں۔
اسرائیل نے فلوٹیلا پر بزدلانہ حملہ کیا ، بربریت فوری بندی ہونی چاہئے ، وزیراعظم شہباز شریف
اسرائیلی حکام نے اس مہم کو ایک سیاسی تماشا قرار دیا ہے۔ اسرائیل بین الاقوامی عدالت انصاف میں نسل کشی کے الزامات کا دفاع کر رہا ہے اور اپنی کارروائیوں کو خود دفاع قرار دیتا ہے۔
واضح رہے کہ غزہ پر اسرائیل کا حملہ اکتوبر 2023 میں شروع ہوا تھا۔ فلسطینی حکام کے مطابق اسرائیل اب تک 66,000 سے زیادہ فلسطینیوں کو شہید کر چکا ہے جن میں بچوں اور عورتوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔
