انڈونیشیا میں ایک مدرسے کی عمارت گرنے کے بعد ملبے تلے دبے تقریباً 60 طلبہ کو نکالنے کے لیے ریسکیو کاروائیاں جاری ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ امدادی ٹیمیں پھنسے طلبہ کو نکالنے کے لیے سر توڑ کوششیں کر رہی ہیں۔
عمارت اس وقت گری جب اوپری منزل پر جاری تعمیراتی کام کے دوران بنیادیں کمزور پڑ گئیں اور پورا ڈھانچہ نیچے گر گیا۔ حادثے کے وقت طلبا نماز ادا کر رہے تھے۔
انڈونیشیا میں زلزلے کے جھٹکے، شدت 6.1 ریکارڈ
ڈیزاسٹر مینجمنٹ ایجنسی کے ترجمان عبدالمہاری کے مطابق 59 افراد تاحال لاپتہ ہیں، جن کی معلومات اسکول کی حاضری رجسٹر اور والدین کی شکایات کی بنیاد پر جمع کی گئی ہیں۔
ریسکیو اہلکار تنگ سرنگوں میں رینگتے ہوئے طلبہ تک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ بھاری مشینری جیسے کرین اور ایکسکیویٹر کو احتیاط کے باعث استعمال نہیں کیا جا رہا، تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔
اب تک 5 سے 6 ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری ہے۔ ریسکیو ٹیم کے ایک افسر نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم امید کا دامن نہیں چھوڑ سکتے، شاید ہمارے چھوٹے بھائی اب بھی زندہ ہوں۔
واضح رہے کہ انڈونیشیا میں تقریباً 42,000 اسلامی مدارس ہیں، جن میں 70 لاکھ طلبہ زیر تعلیم ہیں۔
گلوبل صمود فلاٹیلا پر اسرائیلی حملے کیخلاف دنیا بھر میں احتجاج
