گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے اور انسانی حقوق کے کارکنوں کی گرفتاریوں کے خلاف دنیا بھر میں احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا۔
اسپین، برازیل، کولمبیا، ارجنٹینا سمیت دیگر ممالک میں بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے، اور دھرنے دیئے۔ ترکیہ نے بھی فلوٹیلا کو روکنے کی مذمت کرتے ہوئے اس اقدام کو دہشتگردی قرار دیا۔
علاوہ ازیں فلوٹیلا کو روکے جانے کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے جرمن دارالحکومت برلن میں مظاہرین نے مرکزی ٹرین اسٹیشن کو بند کر دیا۔
ٹرمپ منصوبے کے کئی نکات کی وضاحت ضروری ، اسرائیلی افواج کے انخلاء پر بات ہونی چاہئے ، قطری وزیراعظم
ادھر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں دن دو بجے نیشنل پریس کلب کے باہر پاک فلسطین فورم کی جانب سے احتجاج کی کال دی گئی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ یہ وقت گھر سے نکلنے کا ہے۔
دریں اثناوزیراعظم شہباز شریف نے گلوبل صمود فلوٹیلا پر اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے حراست میں لیے گئے افراد کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان تمام افراد کے تحفظ کے لیے دعاگو ہیں جن کو اسرائیل نے غیر قانونی حراست میں لیا ہے۔ ان کا جرم یہ ہے کہ وہ فلسطینیوں کے لیے امداد لے کر جا رہے ہیں، یہ بربریت بند ہونی چاہیے، انسانی امداد مستحق افراد کو پہنچنی چاہیے۔
قطرپرحملہ امریکا کی سلامتی کیلئے خطرہ تصور ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
واضح رہے اسرائیلی فورسز نے امداد لے جانے والی 40 سے زائد کشتیوں پر مشتمل فلوٹیلا کو گھیرے میں لیکر کارکنوں کو حراست میں لیا ہے ، فلوٹیلا پر پاکستان کے سابق سینیٹر مشتاق احمد بھی سوار ہیں۔ حراست میں لیے جانیوالوں میں معروف سویڈش ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل ہیں۔
