افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے ملک بھر میں انٹرنیٹ اور ٹیلی کمیونیکیشن سروسز کی بندش کے بعد نظام زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا۔
انٹرنیٹ کی بندش سے ملک مکمل طور پر دنیا سے کٹ گیا ہے ، کابل انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تمام پروازیں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں۔
علاوہ ازیں بینکوں سے آن لائن ٹرانزیکشنز، رقوم کی منتقلی اور نقدی نکالنے کا عمل مکمل طور پر رک چکا ہے، جبکہ ڈاک خانے نے بھی کام بند کر دیا ہے۔
ٹرمپ منصوبے کے کئی نکات کی وضاحت ضروری ، اسرائیلی افواج کے انخلاء پر بات ہونی چاہئے ، قطری وزیراعظم
دریں اثناء اقوام متحدہ نے طالبان حکام سے فوری طور پر انٹرنیٹ اور کمیونیکیشن سروسز بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بندش افغان عوام کو مزید معاشی مشکلات اور انسانی بحران میں دھکیل دے گی۔
یو این اسسٹنس مشن ان افغانستان (یوناما) نے اپنے بیان میں کہا کہ انٹرنیٹ بلیک آؤٹ سے آن لائن بزنس، بینکنگ سسٹم، رقوم کی ترسیل اور روزمرہ خدمات ٹھپ ہو گئی ہیں۔ انٹرنیٹ کی بندش انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی امریکی جنرلز سے خطاب میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تعریف
یاد رہے کہ افغان حکومت نے پیر کی شام فائبر آپٹک نیٹ ورک کاٹنے کا فیصلہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں موبائل فون اور انٹرنیٹ دونوں سروسز متاثر ہوئیں۔
