ایک حالیہ طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ ہارٹ اٹیک، فالج یا ہارٹ فیلیئر جیسے جان لیوا امراض اچانک نہیں آتے بلکہ ان کی علامات برسوں پہلے ہی ظاہر ہو جاتی ہیں۔
امریکا کی نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی اورجنوبی کوریا کی یونسائی یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق میں لاکھوں افراد کا ڈیٹا 20 برس تک ٹریک کیا گیا۔
نتائج سے ثابت ہوا کہ 99 فیصد مریضوں میں پہلی طبی ایمرجنسی سے برسوں قبل کم از کم ایک انتباہی عنصرضرور موجود تھا۔
تحقیق کے مطابق سب سے عام عنصر ہائی بلڈ پریشر ہے جو ہر10 میں سے 9 مریضوں کو لاحق ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ بلڈ شوگرمیں اضافہ، ذیابیطس، ہائی کولیسٹرول اور تمباکو نوشی بھی بڑے خطرے کے عوامل پائے گئے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ جوان خواتین، جنہیں عام طورپرمحفوظ سمجھا جاتا ہے، ان میں بھی 95 فیصد تک کم از کم ایک خطرے کا عنصر موجود پایا گیا۔
محققین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج اس خیال کو چیلنج کرتے ہیں کہ ہارٹ اٹیک یا فالج اچانک کسی کو نشانہ بناتے ہیں درحقیقت، برسوں پہلے ہی خطرے کی نشانیاں سامنے آتی ہیں مگراکثرافراد انہیں نظراندازکردیتے ہیں یا علاج نہیں کراتے۔
اعداد و شمارکے مطابق دنیا بھر میں ہر سال تقریباً ایک کروڑ 80 لاکھ افراد امراضِ قلب کے باعث ہلاک ہو جاتے ہیں۔
روزانہ 7 سے 8 کپ پانی، چائے اور کافی کا متوازن استعمال طویل زندگی کا راز قرار
ماہرین کا کہنا ہے کہ ناقص غذا، موٹاپا، تمباکو نوشی اور ذیابیطس ٹائپ ٹوجیسے عوامل نوجوانوں میں بھی دل کی بیماریوں کوتیزی سے بڑھا رہے ہیں۔
