واشنگٹن کی ایک وفاقی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ وائس آف امریکہ سے وابستہ سیکڑوں ملازمین کی برطرفی کے فیصلے کو فی الحال روک دے۔
امریکی ڈسٹرکٹ جج رائس لیمبرتھ نے یہ حکم اس وقت جاری کیا جب وہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا ‘یو ایس ایجنسی فار گلوبل میڈیا’ نے ان کے اپریل میں جاری کردہ ابتدائی حکم کی پیروی کی ہے یا نہیں، جس میں کہا گیا تھا کہ وائس آف امریکہ کو ‘خبروں کا ایک مستند، قابلِ اعتماد اور مستقل ذریعہ’ ہونا چاہیے۔
اسرائیلی وزیراعظم نے میرا امن معاہدہ تسلیم کرلیا،ڈونلڈٹرمپ
عدالت نے کہا کہ حکومتی اہلکاروں نے عدالتی احکامات کی ‘قابلِ تشویش حد تک خلاف ورزی’ کی ہے۔
اگر ٹرمپ کا حکم مانا جاتا ادارے کے باقی ماندہ عملے کی اکثریت یعنی 532 مستقل ملازمین متاثر ہوتے۔
وائس آف امریکہ کی نشریات مارچ میں اچانک اس وقت بند کر دی گئی تھیں جب سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا۔
جج لیمبرتھ نے اپنے تحریری حکم میں کہا کہ انہیں اب “کوئی شک نہیں رہا” کہ ادارہ اور اس کی قائم مقام سی ای او کیری لیک کے پاس عدالتی حکم پر عمل درآمد کا کوئی منصوبہ موجود نہیں ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ کا نیا ویزا قانون، طلبہ اور صحافیوں پر پابندیاں سخت
انہوں نے مزید کہا کہ فریقین معاملے کو مالی سال کے اختتام تک کھینچنا چاہتے ہیں، جبکہ یو ایس اے جی ایم اور وائس آف امریکہ کی قانونی ذمہ داریوں کی تشریح کی بھی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔
سابق صدر ٹرمپ کا ان کی پہلی مدتِ صدارت کے دوران وائس آف امریکہ سے تنازع رہا۔ تاہم اپنے دوسرے دور میں اس کی سربراہی کے لیے سابق نیوز اینکر کیری لیک کو نامزد کیا تھا، جو صدر ٹرمپ کی قریبی اتحادی سمجھی جاتی ہیں، لیکن اکثر مرکزی دھارے کے میڈیا پر ٹرمپ مخالف تعصب کا الزام لگاتی رہی ہیں۔
غزہ میں فوری جنگ بندی ، اسرائیلی فوج کا مرحلہ وار انخلاء ، عبوری حکومت بنے گی ، ٹرمپ منصوبے کے نکات
یاد رہے کہ وائس آف امریکہ کو 1942 میں نازی پروپیگنڈے کا جواب دینے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ 2024 میں یو ایس اے جی ایم کی کانگریس کو دی گئی رپورٹ کے مطابق اس ادارے کی رسائی ہفتہ وار 36 کروڑ افراد تک تھی۔
