منگل سے شروع ہونے والے ویمنز ون ڈے ورلڈ کپ کو ویمنز اسپورٹس کے لیے ایک تاریخی لمحہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ٹورنامنٹ کی خاص بات انعامی رقم کا مردوں کے ورلڈ کپ سے بھی زیادہ ہونا اور مرد و خواتین کرکٹرز کے لیے برابر میچ فیس کا اعلان ہے۔
یہ ورلڈ کپ اپنی نوعیت کا 13 واں ایڈیشن ہے، جس میں 8 ٹیمیں میدان میں اتریں گی۔ ایونٹ کا افتتاحی میث میزبان بھارت اور سری لنکا کے درمیان گواہاٹی میں ہوگا۔
View this post on Instagram
ایک معاہدے کے تحت پاکستان اپنے تمام میچ کولمبو میں کھیلے گا تاکہ بھارت اور پاکستان دونوں نیوٹرل وینیو پر کھیل سکیں۔
ایشیا کپ کی 41 سالہ تاریخ ، پاکستان اور بھارت کی ٹیمیں پہلی مرتبہ آج فائنل میں ٹکرائیں گی
اس ایونٹ کی انعامی رقم 13.88 ملین ڈالر ہے، جو کہ 2023 کے مردوں کے ورلڈ کپ کی انعامی رقم سے بھی زیادہ ہے، اور اسے خواتین کھیل کے لیے ایک بڑی کامیابی سمجھا جا رہا ہے۔
انگلینڈ کی کپتان نیٹ سیور-برنٹ کے مطابق یہ ٹورنامنٹ ویمنز کرکٹ کے لیے سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ ‘ہمیں لگتا ہے کہ ہم جب ریٹائر ہوں گے تو اس ورلڈ کپ کو ایک گیم چینجر کے طور پر یاد کریں گے۔’
آسٹریلیا، جو سات بار کا چیمپیئن ہے، دفاعی ٹائٹل کے ساتھ میدان میں اترے گا۔ کپتان الیسہ ہیلی نے کہا کہ یہ اب تک کا سب سے سخت ورلڈ کپ ہوگا۔ ہر ٹیم کو ہرانا مشکل ہوگا۔
View this post on Instagram
بھارت، جو دو بار فائنل کھیل چکا ہے مگر کبھی جیت نہیں سکا، اس بار اپنے ہوم گراؤنڈ پر پہلا ٹائٹل جیتنے کے لیے پُرعزم ہے۔ بھارت میں خواتین کرکٹ کو گزشتہ چند سالوں میں بے پناہ مقبولیت ملی ہے، خاص طور پر ویمنز پریمیئر لیگ (WPL) کے آغاز کے بعد۔
بی سی سی آئی کے مطابق صرف WPL سے بورڈ کو 700 ملین ڈالر کی آمدن ہوئی۔ بھارت کی اسٹار کھلاڑیوں جیسے ہرمندپریت کور اور سمرتی مندھانا نے میڈیا اور اشتہارات میں بڑی جگہ بنائی ہے۔
صنفی برابری کے حوالے سے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے آئی سی سی نے مرد و خواتین کرکٹرز کے لیے برابر میچ فیس کا اعلان کیا، جسے انقلابی اقدام قرار دیا گیا۔
بڑی اسکرینز پر پاک بھارت فائنل کہاں دیکھا جا سکتا ہے؟
ورلڈ کپ میں اس بار تیز رفتاری سے اسکور بننے کی توقع ہے۔ 2022 سے اب تک خواتین ٹیمیں 34 بار 300 سے زائد رنز بنا چکی ہیں، اور بھارت و آسٹریلیا ایک ایک بار 400 کا ہندسہ بھی عبور کر چکے ہیں۔
ابھرتی ہوئی کھلاڑیوں میں بھارت کی فاسٹ بولر کرانتی گوڑ، نیوزی لینڈ کی بیٹر جارجیا پلِمر، انگلینڈ کی فاسٹ بولر لورین بیل اور جنوبی افریقہ کی آل راؤنڈر اینری ڈیرکسن شامل ہیں۔
فائنل میچ 2 نومبر کو ممبئی یا کولمبو میں کھیلا جائے گا، جو پاکستان کی فائنل رسائی پر منحصر ہوگا۔
یہ ورلڈ کپ بھارت میں چوتھی بار منعقد ہو رہا ہے، اس سے قبل یہ 1978، 1997 اور 2013 میں ہو چکا ہے۔ شائقین کو اس بار بھرے ہوئے اسٹیڈیمز اور شاندار کرکٹ دیکھنے کو ملنے کی توقع ہے۔
پی سی بی نے سوریا کمار کے بعد ارشدیپ کیخلاف بھی آئی سی سی میں درخواست دیدی
