وزیراعظم شہبازشریف (Shehbaz Sharif)کا کہنا ہے کہ پاکستان نے حالیہ دنوں میں سرحد پار جارحیت کا بھرپور جواب دیا،بھارت ایک سیاسی گیم کھیل رہاہے،،سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جنگی اقدام ہوگا،معیشت کو مستحکم کرنے کیلئے بنیادی اصلاحات لائی گئی ہیں،یوکرین تنازع کے پرامن حل کیلئے کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔
وزیراعظم نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب کا آغاز سورہ بقرہ کی آیت نمبر 177 سے کیا۔
بھارتی جارحیت:
شہبازشریف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے پاکستان کی شہری آبادی پر حملہ کیا اور معصوم افراد کو نشانہ بنایا،بھارت نے پہلگام واقعے کو سیاست کے لیے استعمال کیا،پاکستان نے اپنے دفاع کا حق استعمال کیا اور بھرپور جواب دیا۔
اسرائیلی وزیراعظم کا اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب،مسلم ممالک نے بائیکاٹ کردیا
ایل او سی پر بھارتی جارحیت سے 6سال کابچہ ارتضیٰ شہید ہوا،پاک فضائیہ نے بھارتی جارحیت کا جواب دیتے ہوئے 7بھارتی طیارے گرائے،بھارت کیخلاف ہر پاکستانی سیسہ پلائی دیوار بن گیا ہے،پاکستان نے غرور میں مبتلا بھارت کوبھرپور جواب دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خطے میں قیام امن کیلئے اہم کردار ادا کیا،پاکستان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبل انعام کیلئےنامزد کیا۔
مسئلہ فلسطین کا ذکر
وزیراعظم شہبازشریف نے فلسطین کو تسلیم کرنے والے ممالک کاخیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتا ہے ،پاکستان پہلے ممالک میں شامل ہے جنہوں نے فلسطین کو تسلیم کیا،فلسطین مزید اسرائیلی زنجیروں میں نہیں رہ سکتا،اسے آزاد ہونا ہوگا۔
وقار یونس نے صائم ایوب کو قومی ٹیم سے ڈراپ کرنےکا مشورہ دیدیا
فلسطینی عوام کی حالت زار ہمارے درد کے دلخراش سانحے میں سے ایک ہے،غزہ کی صورتحال عالمی ضمیر پر بدنماداغ اور اجتماعی اخلاقی ناکامی ہے،8دہائیوں سے فلسطینی عوام جرات کے ساتھ اپنا دفاع کررہے ہیں۔مغربی کنارے میں ہر گزرتا دن ایک نئی بربریت لارہاہے۔غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی جاری ہےجس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔
قطر کیساتھ اظہار یکجہتی:
قطر کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قطر پر اسرائیلی حملہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے،پاکستان اپنے بھائی قطر کے ساتھ مشکل کی گھڑی میں کھڑا ہے۔
دہشتگردی:
وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشتگردی کی مذمت کر تا ہے،دہشتگردی کیخلاف جنگ میں پاکستانی معیشت کو 150 ارب ڈالر کا نقصان ہوا،آج بھی پاکستان کو بیرونی سرپرستی میں دہشتگردی کی نئی لہر کا سامنا ہے،پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف 90ہزار شہریوں کی قربانی دی ہے۔گمراہ کن پراپیگنڈا اور جعلی خبروں نے اعتماد کو متزلزل کر دیا ہے۔
6-0 اشارہ،حارث رؤف پر میچ فیس کا 30فیصد جرمانہ عائد
دہشتگردی سے صرف پاکستان نے بلکہ دنیا بھی متاثر ہورہی ہے۔دہشتگردی کیخلاف سب کو مشترکہ کوششیں کرناہوں گی،ہمارے شہدا کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی۔بلوچستان میں جعفر ایکسپریس پر حملہ کیاگیا،پاک فوج نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے تمام مسافروں کو فوری بازیاب کرایا۔
افغانستان کا ذکر
وزیر اعظم کا اپنے خطاب میں مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو سرحد پار دہشتگردی کا سامناہے،افغان سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہیں کیاجاسکتا۔ٹی ٹی پی،فتنہ الخوارج اوربی ایل اے افغان علاقوں سے پاکستان میں کارروائیاں کررہے ہیں۔افغان عبوری حکومت دہشتگرد گروپوں کیخلاف کارروائی کرے،پاکستان کی خارجہ پالیسی باہمی احترام اور تعاون پر مبنی ہے۔
اپنے خطاب میں انہوں نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 80واں اجلاس منعقد کرنے پر صدر کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ کی کاوشیں بھی قابل تعریف ہیں۔اجلاس کے دوران ایوان پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔
بھارتی صحافی کو کرارا جواب:
جنرل اسمبلی اجلاس میں ہال سے باہر جاتے ہوئے بھارتی صحافی نے سرحد پار دہشت گردی سے متعلق سوال کیا جس پر وزیراعظم جاتے ہوئے رک گئے اور ترکی بہ ترکی جواب دیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ بھارت کی جانب سے ہونے والی سرحد پار دہشت گردی کو شکست دے رہےہیں۔
