ایشیا کپ 2025 کے دوران پاکستانی اوپنرصائم ایوب(saim ayub) کی ناقص بیٹنگ کارکردگی پر سابق کپتان وقار یونس بھی بول پڑے۔
وقار یونس نے ایک کرکٹ شو میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صائم ایوب بلاشبہ پاکستان کے بہترین ابھرتے ہوئے بلے باز ہیں لیکن حالیہ ناکامیوں نے ان کے اعتماد کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔
انہوں نے کہا میں نے اس وقت ہی کہہ دیا تھا (جب صائم دوسرا صفر بنا کر پویلین لوٹے تھے) کہ انہیں کچھ وقت کے لیے باہر بٹھانا ضروری ہے۔ یہ لڑکا باصلاحیت ہے مگر جب رنز نہ بنیں تو کھلاڑی مزید دباؤ میں آجاتا ہے اور یہی کچھ صائم کے ساتھ ہورہا ہے۔
ٹی ٹوئنٹی کرکٹ،صائم ایوب نے ناپسندیدہ عالمی ریکارڈ برابر کر دیا
سابق کپتان نے نوجوان بلے باز کی باڈی لینگویج پر بھی سوال اٹھایا۔ وقار یونس کے مطابق صائم جب بیٹنگ کے لیے آتے ہیں تو پہلے ہی دباؤ میں نظر آتے ہیں، جو اس بات کی علامت ہے کہ وہ ذہنی طور پر بھی جدوجہد کر رہے ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ بیٹنگ میں ناکامی کے باوجود صائم ایوب نے بالنگ کے شعبے میں متاثر کیا ہے، مگر وقار یونس کے نزدیک اس پہلو کو زیادہ اہمیت نہیں دینی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صائم کو ٹیم میں رکھنے کا اصل مقصد ان کی بیٹنگ ہے اور وہی فی الحال بڑا سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔
مفتی قوی کا قومی کرکٹ ٹیم کو جیت کیلئے دلچسپ نسخہ
اعداد و شمار پر نظر ڈالیں تو صائم ایوب نے ایشیا کپ میں اب تک چھ اننگز کھیلیں اور صرف 23 رنز جوڑ سکے، جن میں 21 رنز ایک ہی اننگز میں آئے۔ باقی پانچ اننگز میں وہ صرف 2 رنز بنا سکے، جبکہ چار مرتبہ صفر پر آؤٹ ہوئے۔
اگرچہ پاکستان نے ایونٹ کے دوران ایک بڑی تبدیلی کرتے ہوئے حسن نواز کو باہر کرکے حسین طلعت کو کھلایا، لیکن فائنل سے قبل صائم ایوب کو ڈراپ کرنے کا امکان کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ البتہ مستقبل میں انہیں آرام دینے کا فیصلہ خارج از امکان نہیں، خاص طور پر اگر وہ اپنی بیٹنگ میں بہتری نہ لا سکے۔
