سپریم کورٹ نے اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر ٹرانسفر کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔
55 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جسٹس محمد علی مظہر نے تحریر کیا، اسلام آباد ہائیکورٹ کے 5 ججوں نے سپریم کورٹ میں ججوں کی ٹرانسفر اور سینیارٹی کو چیلنج کیا تھا۔
فیصلے میں کہا گیا کہ صدر مملکت کو ہائیکورٹ کے ایک جج کو دوسری ہائیکورٹ میں منتقل کرنے کا اختیار حاصل ہے، یہ اختیار اپنی نوعیت میں آزاد ہے، تاہم کچھ حفاظتی اقدامات اور ضمانتیں بھی شامل ہیں۔
جسٹس طارق جہانگیری کی اپیل 29 ستمبر کو سماعت کیلئے مقرر
فیصلے میں کہا گیا کہ صدر مملکت کے یہ اختیارات آئین کے کسی اور آرٹیکل پر منحصر نہیں، بنیادی شرط یہ ہے جج کو ہائیکورٹ منتقل کرنے سے جج کی رضامندی لینا ضروری ہے، صدر مملکت چیف جسٹس پاکستان اور دونوں ہائیکورٹس کے چیف جسٹس سے مشاورت کے پابند ہیں۔
فیصلے کے مطابق ہائیکورٹ کا چیف جسٹس کسی دوسری ہائیکورٹ کے جج کو مقررہ مدت کے لیے بلا سکتا ہے، یہ عمل بھی اسی صورت میں ممکن ہے جب بلائے جانے والے جج کی رضامندی حاصل ہو۔
عدالت نے کہا کہ آئین سازوں کے دیئے گئے صدر مملکت کے اختیارات ختم نہیں کیے جا سکتے، خالی آسامیاں تبادلے کے اختیار پر اثر انداز نہیں ہوتیں، جج کا تبادلہ کسی طور نئی تقرری قرار نہیں دیا جا سکتا، آرٹیکل 200 کے تحت تبادلہ، آرٹیکل 175-اے کی تقرری سے الگ تصور کیا جائے گا۔
ججز ایک دوسرے کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی نہیں کر سکتے ، سپریم کورٹ
فیصلے کے مطابق جج ٹرانسفر کیس میں ہائیکورٹ کے 5 ججوں کےخط پر دلائل دیے گئے، ججوں کے خط کا کیس سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے، ہمارا کوئی تبصرہ یا ریمارکس زیر التوا مقدمے کو متاثر کر سکتا ہے، الزام لگایا گیا متعلقہ چیف جسٹس اسٹیبلشمنٹ کی خواہشات پر عمل کرنے کیلئے مائل نظر آتے ہیں۔
فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ بطور آئینی بینچ ہم اپنے دائرہ کار تک محدود رہنا چاہتے ہیں، مشاورت کرنے والوں پر عائد الزامات میں الجھنا نہیں چاہتے، ایسے الزامات آسانی سے ہر اس جج پر لگائے جاسکتے ہیں جو آرٹیکل 200 کے تحت ٹرانسفر ہو کر آئے۔
