امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج وزیر اعظم شہباز شریف سمیت دیگر مسلم اکثریتی ممالک کے رہنماؤں اور اعلیٰ حکام سے ملاقات کریں گے، جس میں غزہ کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے پیر کے روز صحافیوں کو بتایا کہ صدر ٹرمپ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکی، انڈونیشیا اور پاکستان کے ساتھ ایک کثیرالجہتی ملاقات کریں گے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اس ملاقات میں غزہ کا معاملہ زیرِ بحث آئے گا۔ اس دوران غزہ پر امریکہ کے اتحادی اسرائیل کی جانب سے جاری حملوں میں شدت آ چکی ہے۔
امریکی ویب سائٹ ‘ایکسيوس’ کے مطابق، ٹرمپ اس اجلاس میں غزہ میں قیامِ امن اور جنگ بندی کے بعد کی صورتحال سے متعلق ایک منصوبہ پیش کریں گے۔ اس منصوبے میں یرغمالیوں کی رہائی، جنگ کا خاتمہ، اسرائیلی افواج کا انخلا، اور غزہ میں حماس کی شمولیت کے نئی حکمرانی پر بات کی جائے گی۔
بیلجیم، لکسمبرگ اور مالٹا کا فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان
ایکسيوس کی رپورٹ کے مطابق امریکہ عرب اور مسلم ممالک سے مطالبہ کرے گا کہ وہ غزہ میں افواج بھیجنے پر رضامند ہوں تاکہ اسرائیلی انخلا ممکن ہو سکے، اور جنگ کے بعد بحالی اور تعمیرِ نو کے لیے مالی معاونت فراہم کی جائے۔
ٹرمپ آج اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے بھی خطاب کریں گے۔
عالمی منظرنامے میں یہ ہلچل اس وقت ہو رہی ہے جب درجنوں عالمی رہنماؤں نے فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ غزہ میں جاری جنگ کے تقریباً دو سال بعد ایک اہم سفارتی تبدیلی ہے، جس کی اسرائیل اور امریکہ شدید مخالفت کر رہے ہیں۔
ان ممالک نے کہا کہ دو ریاستی حل ہی امن کا واحد راستہ ہے، جبکہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ فلسطینی ریاست کا اعتراف دراصل شدت پسندی کو انعام دینا ہے۔
اکتوبر 2023 سے جاری اسرائیلی حملوں میں دسیوں ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، غزہ کی پوری آبادی بے گھر ہو چکی ہے، اور علاقے میں قحط کی صورتحال ہے۔ انسانی حقوق کے ماہرین، اسکالرز اور اقوام متحدہ کی ایک تحقیقاتی رپورٹ نے ان حملوں کو نسل کشی قرار دیا ہے۔
لندن میں فلسطینی مشن کو سفارتخانے کا درجہ مل گیا، پرچم بھی لہرا دیا
اسرائیل کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات اکتوبر 2023 میں حماس کے حملے کے بعد کیے گئے، جس میں 1,200 افراد ہلاک اور 250 سے زائد یرغمال بنائے گئے تھے۔ جنگ کے دوران اسرائیل نے ایران، لبنان، یمن، شام اور قطر پر بھی بمباری کی ہے۔
صدر ٹرمپ نے غزہ جنگ کے جلد خاتمے کا وعدہ کیا تھا، مگر آٹھ ماہ بعد بھی کوئی ٹھوس حل سامنے نہیں آ سکا۔ ٹرمپ کی مدت صدارت کا آغاز اسرائیل اور حماس کے درمیان دو ماہ کی جنگ بندی سے ہوا تھا، جو 18 مارچ کو اسرائیلی فضائی حملوں میں 400 فلسطینیوں کی ہلاکت کے بعد ختم ہو گئی۔
