آسٹریلیا، برطانیہ اور کینیڈا کے بعد آج فرانس بھی فلسطین کو ریاست تسلیم کرنے والے بڑے ممالک کی صف میں شامل ہو جائیگا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق باضابطہ اعلان سے پہلے ہی فرانس میں ایفل ٹاور پر فلسطین کے پرچم لگا دیئے گئے ہیں۔
فرانسیسی صدر ایمانویل میکرون کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی حماس کے خلاف حکمت عملی ناکام ہوگئی اور غزہ جنگ سے اسرائیل کی ساکھ کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پائیدارامن کیلئے دوریاستی حل ضروری ہے۔
واضح رہے کہ آسٹریلیا، برطانیہ، کینیڈا اور پرتگال فلسطین کو بطور ریاست تسلیم کر چکے ہیں۔
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرتے ہوئے شراکت داری کی پیشکش بھی کی۔
شام میں 5 اکتوبر کو پہلے پارلیمانی انتخابات کرانے کا اعلان
ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا دو ریاستی حل کی حمایت کرنا ہے۔
فلسطین کو باضابطہ طور پر ریاست تسلیم کر لیا ،آسٹریلوی حکومت کااعلان
آسٹریلیا نے بھی دو ریاستی حل کے حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا دو ریاستی حل کیلئے عالمی کوششوں کا حصہ ہے۔
اسی طرح پرتگال کے وزیر خارجہ نے فلسطین کو باضابطہ ریاست تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ پرتگال کی خارجہ پالیسی کی ایک مستقل اور بنیادی لائن ہے جو دو ریاستی حل کو پائیدار امن کا واحد راستہ سمجھتا ہے۔
دوسری جانب امریکا کا کہنا ہے کہ برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور دیگر ممالک کا فلسطین کو تسلیم کرنا نمائشی اقدام ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ ہم سنجیدہ سفارتکاری پر یقین رکھتے ہیں، نمائشی اعلانات پر نہیں اور ہماری ترجیحات میں امن، اسرائیل کی سیکیورٹی اور یرغمالیوں کی رہائی شامل ہے۔
