صدر مسعود پژشکیان نے ہفتے کے روز کہا کہ اگر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے ایران پر دوبارہ پابندیاں “اسنیپ بیک” طریقہ کار کے تحت عائد کی گئیں، تو ایران ان پر قابو پانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر کیے گئے اپنے بیان میں انہوں نے کہا: “وہ اسنیپ بیک کے ذریعے راستہ بند کرتے ہیں، لیکن یہ دماغ اور سوچ ہوتی ہے جو راستہ کھولتی یا بناتی ہے۔ وہ ہمیں روک نہیں سکتے۔ وہ نطنز یا فردو (جو جون میں امریکا اور اسرائیل کے حملوں کا شکار بنے) کو نشانہ بنا سکتے ہیں، لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ نطنز انسانوں نے بنایا تھا، اور انسان ہی اسے دوبارہ بنائیں گے۔”
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب برطانیہ، فرانس اور جرمنی نے الزام لگایا کہ ایران 2015 کے جوہری معاہدے کی شرائط کی پاسداری نہیں کر رہا، اور گزشتہ ماہ انہوں نے “اسنیپ بیک” عمل شروع کیا جس کا مقصد پابندیاں دوبارہ نافذ کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھی مستقل طور پر پابندیاں ہٹانے سے انکار کر دیا۔
ایران کی طرف سے بار بار اس بات کی تردید کی گئی ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔
پژشکیان نے مزید کہا: “ہم کسی بھی ناجائز مطالبے کے آگے کبھی سر نہیں جھکائیں گے، کیونکہ ہمارے پاس حالات کو بدلنے کی طاقت ہے۔”
اختلافات ختم کرکے اسرائیل کیخلاف متحدہ محاذ تشکیل دیں ، حزب اللہ کی سعودی عرب کو مذاکرات کی دعوت
ایران کی جوابی حکمت عملی
دوسری جانب ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے خبردار کیا ہے کہ اگر پابندیاں دوبارہ عائد کی گئیں تو ایران اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے درمیان تعاون “مؤثر طور پر معطل” کر دیا جائے گا۔
میكرون فلسطینی ریاست کے معاملے میں اسرائیلی جوابی وار کی پرواہ کئے بغیرڈٹ گئے
رواں ماہ کے آغاز میں ایران اور بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے درمیان بمباری کا نشانہ بننے والی جوہری تنصیبات پر دوبارہ معائنوں کے حوالے سے ایک معاہدہ ہوا تھا، لیکن اس کی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
اسنیپ بیک کے اثرات کیا ہوں گے؟
اگر کوئی معاہدہ نہ ہوا تو اسنیپ بیک کے ذریعے ہتھیاروں کی خرید و فروخت ، یورینیم کی افزودگی اور دوبارہ پروسیسنگ، بیلسٹک میزائل سرگرمیوں اورسفر پر عالمی پابندیاں دوبارہ عائد ہو جائین گی۔ اس کے علاوہ ایرانی افراد و اداروں کے عالمی اثاثے منجمد کئے جا سکیں گے۔
یہ صورتحال ایران اور مغربی طاقتوں کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے، اور خطے میں غیر یقینی کی کیفیت پیدا کر سکتی ہے۔
