امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایچ-1 بی ویزہ فیس بڑھانے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے بھارت کا کہنا ہے کہ انسانوں پر سنگین منفی اثرات پڑیں گے۔
اس سلسلے میں بھارتی وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ اس پالیسی کے باعث بہت سے خاندان متاثر ہوں گے۔
بھارت میں وزیر اعظم نریندرا مودی کی حکومت کی بوکھلاہٹ وجہ یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانے سے اس بھاری فیس کے نفاذ کو بھارت کو خاص طور پر نشانہ بنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایچ-1بی ویزہ حاصل کرنے والوں میں سے 70 فیصد کا تعلق بھارت سے ہوتا ہے۔
ٹرمپ کا بھارت کو بڑا جھٹکا، ایچ ون بی ویزا پر سالانہ ایک لاکھ ڈالر فیس عائد
اسے سے پہلے ٹرمپ بھارت پر 50 فیصد ٹیرف بھی نافذ کر چکے ہیں جس کی وجہ روسی تیل کی خریدوفروخت کے زریعے اربوں ڈالر کمانا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی یہ پالیسی روس کی یوکرین جنگ جاری رکھنے کو منافع بخش بناتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ بھارتی میڈیا اس حقیقت کا برملا اظہار کر رہا ہے کہ امریکی صدر کے ایچ-1 بی ویزہ فیس بڑھانے سے سب سے زیادہ نقصان بھارتی شہریوں کو ہو گا۔
اس سے پہلے بھارت کی آئی ٹی انڈسٹری کی تنظیم ناس کام نے یہ بتایا کہ ایچ-1بی ویزا کی درخواستوں پر نئی 100,000 ڈالر کی سالانہ فیس مسلط کرنے سے ہندوستانی ٹیکنالوجی سروسز کمپنیوں کے عالمی سطح پر کام میں خلل پڑ سکتا ہے جو ہنر مند پیشہ ور افراد کو امریکا بھیجتی ہیں۔
امریکا کی نئی ایچ-1بی فیس بھارتی آئی ٹی کمپنیوں کے کام میں خلل ڈال سکتی ہے
