امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرتے ہوئے ایچ ون بی ویزا پرسالانہ ایک لاکھ ڈالر فیس عائد کر دی ہے۔
یہ پالیسی 21 ستمبر 2025 سے نافذ ہوگی اور اس کا سب سے زیادہ اثر بھارتی شہریوں پر پڑے گا جو اس ویزا کے 71 فیصد حصے کے حامل ہیں۔
ٹرمپ کے حکم نامے کے تحت کمپنیوں کو ہر ایچ ون بی ویزا ہولڈر کے لیے سالانہ 100,000 ڈالر جمع کرانے ہوں گے جبکہ بعض “قومی مفاد” کیسز کواس شرط سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔
اس کے ساتھ ہی ایچ ون بی ملازمتوں کے لیے کم از کم تنخواہ کی شرط بھی بڑھا دی گئی ہے مزید برآں امریکی صدر نے امیروں کے لیے “گولڈ کارڈ” ویزا متعارف کرایا ہے جس کے لیے ایک ملین ڈالر کی فیس مقرر کی گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اس فیصلے نے بھارتی طلبہ اور نوجوان پروفیشنلز کوشدید دھچکا دیا ہے، ایک تلگو شہری کے مطابق بھارت سے ہزاروں طلبہ 40 سے 50 لاکھ روپے کے تعلیمی قرضے لے کرامریکہ پڑھنے گئے تھے۔
نئی پالیسی کے بعد ان کے پاس امریکہ میں قیام کے محدود مواقع رہ گئے ہیں اورممکنہ طور پروہ بھاری قرضوں کے بوجھ کے ساتھ واپس آ جائیں گے، ان میں سے کئی طلبہ ایک دن میں “پراؤڈ این آر آئیز” سے “پُور انڈینز” میں بدل گئے ہیں۔
ٹیکنالوجی کمپنیوں جیسے ایمیزون اورمائیکروسافٹ نے اس اقدام پرتشویش ظاہر کی ہے کیونکہ ان کے بیشترملازمین بھارت اورچین سے آتے ہیں یہ کمپنیاں اب بڑھتے ہوئے اخراجات اورٹیلنٹ کو برقراررکھنے کے مسائل کا سامنا کریںگی۔
امریکا حیران کن طور پر مردوں کی 4×400 دوڑ کے ابتدائی مرحلے میں ہی مقابلے سے باہر
قانونی ماہرین نے عندیہ دیا ہے کہ یہ اقدام عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے جبکہ بھارت میں سوشل میڈیا پر ٹرمپ کے فیصلے پر سخت ردعمل سامنے آیا ہے۔
