سی ٹی ڈی نے جمعہ کے روز اپنی تازہ ترین کاروائی میں تین خوارج دہشت گرد ہلاک کردئیے جن میں سے ایک کا تعلق افغانستان سے تھا، تاہم ان کا سرغنہ فضل نور ساتھیوں سمیت فرار ہونے میں کامیاب ہوگیا۔
یہ خبر آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل اس بیان کے بعد سامنے آئی جس میں انہون نے کہا تھا کہ اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ بھارتی فوج کے حاضر سروس افسران اور غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم افغانی شہری ملک میں دہشت گردی سمیت سنگین جرائم میں ملوث ہیں۔
افغان شہری اور بھارتی فوجی پاکستان میں دہشت گردی میں ملوث ہیں، ڈی جی آئی ایس پی آر
پاکستان یا خوارج
یہ بیان اسلام آباد کے اس موقف کا تسلسل ہے جس کے مطابق مختلف گروہ افغانستان کو پاکستان میں دہشت گردی کیلئے مرکز کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور کابل میں قائم عبوری حکومت بار بار یاد دہانی کے باوجود اس سلسسلے کو روکنے میں ناکام ہے۔
اسی سلسلے میں وزیر اعظم شہباز شریف نے جنوبی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز پر حملے کے بعد بنوں کے دورے کے دوران کہا تھا کہ افغانستان کو بتا دیا گیا ہے کہ اسے پاکستان اور خوارج میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔
پاکستان اب سرکاری طور پر ٹی ٹی پی جیسے دہشتگرد گروہوں کوفتنہ الخوارج کا نام دیتا ہے، جبکہ بی ایل اے وغیرہ کیلئے فتنہ الہندوستان کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔
چمکنی خودکش دھماکہ
جمعہ کے روز پشاور میں ہونے والی کاروائی کی تفصیلات بتاتے ہوئے سی ٹی ڈی نے بتایا کہ ہلاک ہونے والے افغان دہشت گرد کا تعلق ننگرہار صوبہ سے تھا، جبکہ جہنم رسید ہونے والے تینوں فرد چمکنی خود کش دھماکے کے ماسٹر مائنڈ تھے۔
جہاں تک فرار ہونے والے سرغنہ فضل نور اور اسکے ساتھیوں کا تعلق ہے، ان کے بارے میں سی ٹی ڈی نے بتایا کہ انکی گرفتاری کیلئے علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے جس کے لئے علاقے میں بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔
