چین نے واضح کیا ہے کہ خطے میں کشیدگی اور تصادم کی فضاء پیدا کرنے کی کوششوں کی کسی بھی صورت حمایت نہیں کی جائے گی۔
یہ ردِعمل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے جواب میں آیا کہ جس میں انہوں نے جمعرات کے روز کہا تھا کہ امریکہ کابل کے قریب بگرام ائیربیس کے حصول کی کوشش کر رہا ہے۔
امریکا بگرام کا ہوائی اڈا واپس لینے کی کوشش کر رہا ہے: ٹرمپ
امریکی صدر نے ان کوششوں کی وجہ یہ بتائی کہ بگرام ائیربیس اس مقام سے صرف ایک گھنٹے کی دوری پر ہے جہاں چین ایٹمی ہتھیار بناتا ہے۔
امن اور استحکام
ایک سوال کے جواب میں چینی وزارتِ خارجہ کے ترجمان لین جیان نے کہا: “چین افغانستان کی آزادی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرتا ہے. افغانستان کا مستقبل افغان عوام کے ہاتھوں میں ہونا چاہیئیے۔”
اس موضوع پر بات کرتے ہوئے انہوں پر امریکا کو جارحانہ اقدامات اٹھانے کے خلاف خبردار بھی کیا۔
“میں اس بات پر زور دینا چاہوں گا کہ خطے میں کشیدگی اور محاذ آرائی کو ہوا دینے کی حمایت نہیں کی جائے گی۔”
تاہم لین نےاس توقع کا اظہار کیا کہ ” تمام فریقین علاقائی امن اور استحکام کے لیے تعمیری کردار ادا کریں گے”.
ٹرمپ چین میں
دوسری جانب، ٹرمپ نے اپنے جارحانہ بیان کے ایک دن بعد ہی یہ اعلان کر دیا کہ وہ آئندہ سال کے شروع میں چین کا دورہ کریں گے جہاں ان کی چینی صدر شی جن پنگ سے اہم ملاقات ہوگی۔
ٹرمپ آئندہ سال چین کا دورہ کریں گے، شی جن پنگ سے ملاقات طے
ٹرمپ نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا ہے جس میں دو طرفہ تعلقات اورتجارتی معاملات پر بات چیت کی گئی اس ملاقات میں باہمی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا ہے۔
یہ ممکن نہیں
جمعہ کے دن ہی افغان طالبان کی افغانستان میں قائم عبوری حکومت کا یہ بیان سامنے آیا کہ وہ افغان سرزمین پر امریکی افواج کی واپسی کو مسترد کرتے ہیں۔ افغانستان میں امریکی افواج کی موجودگی ناقابل عمل ہے۔ افغانستان اور امریکا کو فوجی مداخلت کے بغیر روابط رکھنے چاہئیں۔
افغان سرزمین پر امریکی افواج کی واپسی ناقابل قبول ہے ، افغان حکومت
