ایک ایسے موقع پر کہ جب نیٹو کی مشرقی سرحدوں پر کشیدگی بڑھ رہی ہے، فوجی اتحاد کے رکن ملک اسٹونیا نے جمعہ کے روز کہا کہ روس کے تین جنگی طیاروں نے اسکی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی۔
اسٹونیا تین بالٹک ریاستوں میں سے ایک ہے جو شمالی یورپ میں واقع ہیں۔ ان میں سے دو — اسٹونیا اورلٹوویا — کی سرحدیں مشرق میں روس سے جبکہ لتھونیا کی سرحد بیلاروس سے ملتی ہے۔
مولوٹوو-ریبنٹروپ معاہدے پر دستخط کے ایک سال بعد سابقہ سوویت یونین نے 1940 میں تینوں بالٹک ریاستوں پر قبضہ کر لیا تھا۔
سوویت یونین کے ٹوٹنے کے بعد لتھونیا نے مارچ اور لٹوویا نے مئی 1990 میں آزادی کا اعلان کردیا۔ اسٹونیا, جس کا دارالحکومت ٹالن ہے، نے اپنی آزادی کا اعلان اگلے سال ستمبر میں کیا۔
تینوں بالٹک ریاستوں نے 2002 میں نیٹو میں شمولیت کے لیے درخواست دی جس کے دو سال بعد 2004 میں وہ دنیا کے سب سے بڑے فوجی اتحاد کا حصہ بن گئیں۔
روس، ایئرپورٹ کی ویب سائٹ ہیک، سائبر سیکیورٹی حکام متحرک
اسٹونیا کی فضائی حدود کی خلاف ورزی اس واقعہ صرف ایک ہفتے سے کچھ زیادہ عرصے بعد پیش ہوئی جب 9-10 ستمبر کی رات کو 20 سے زیادہ روسی ڈرون پولینڈ حدود میں داخل ہوئے۔ نیٹو کے جنگی طیاروں فوری کاروائی کرتے ہوئے ان میں سے کچھ کو مار گرایا۔
اس بارے میں مغربی عہدیداروں نے کہا تھا کہ روس اتحاد کی تیاری اور عزم کا امتحان لے رہا ہے۔
ٹالن نے جمعہ کو کہا کہ تین مگ 31 طیاروں نے اجازت کے بغیر ملک کی فضائی حدود میں داخل ہو کر وہاں کل 12 منٹ تک قیام کیا۔
“روس نے اس سال پہلے ہی چار بار اسٹونیا کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے، جو ناقابل قبول ہے، لیکن آج کی خلاف ورزی، جس کے دوران تین لڑاکا طیارے ہماری فضائی حدود میں داخل ہوئے، کھلم کھلا ہے جسکی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔”
اس سلسلے میں اسٹونیا کے وزیر خارجہ نے کہا کہ روسی جارحیت میں مسلسل اضافے کا جواب سیاسی اور معاشی دباؤ کو تیزی سے بڑھا کر دینا چاہیے۔
