امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کا ملک افغانستان میں بگرام کا ہوائی اڈا واپس لینے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ بات انہوں نے جمرات کے روز برطانوی وزیر اعظم کیر سٹارمر کے ساتھ ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کہی۔
امریکی صدر کے مطابق اس کوشش کی وجہ بگرام کا محل وقوع ہے جہاں اسے چین کے قریب امریکی افواج تعینات کرنے کا موقع ملے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ نے کہا کہ “ہم وہ اڈہ واپس چاہتے ہیں۔”
ماہرین، میڈیا اوربھارت کا پاک سعودی عرب دفاعی معاہدے کے بارے میں کیا کہنا ہے؟
میڈیا سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ بگرام کا اڈا واپس لینے کی وجوہات میں سے ایک یہ ہے کہ یہ اس مقام سے صرف ایک گھنٹے کی مسافت پر ہے جہاں چین اپنے ایٹمی ہتھیار بناتا ہے۔
یہ تاریخی ہوائی اڈا سوویت یونین نے تعمیر کیا تھا جسے ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد افغانستان میں امریکی افواج کے لیے مرکزی اڈا بن گیا۔ بگرام کو یہ مقام 2021 کے انخلا تک جاری رہا جس کے نتیجے میں طالبان نے اس پر باقی ملک کی طرگ قبضہ کر لیا۔
ٹرمپ کا تازہ ترین بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے کہ جب پاکستان اور سعودی عرب نے ایک روز قبل ہی باہمی دفاعی تعاون کا معاہدہ کیا جس کے تحت کسی بحی ملک پر حملہ دنوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔
دوسری جانب رواں ماہ کے آخر میں سی پیک ٹو پر کام کا آغاز بھی ہونے جا رہا ہے جو چین کو بحیرہ جنوبی چین میں موجودہ کشیدگی میں سمندر تک محفوظ رستہ فراہم کرتا ہے۔
اگرچہ ٹرمپ نے اس موضوع پر پہلی بار کھل کر بات کی، تاہم امریکی میڈیا میں کچھ رپورٹس حالیہ مہیںوں میں سامنے آئیں جس میں ٹرمپ انتظامیہ کی اس خواہش کا ذکر تھا۔
امریکی صدر معدنیات کی دولت سے مالامال گرین لینڈ کو بھی امریکا کا حصہ دیکھنا چاہتے ہیں حالانکہ وہ جزیرہ نیٹو اتحادی ملک ڈنمارک کا حصہ ہے۔
