پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کوچ رمیز راجہ نے منصور علی خان کے پروگرام میں انکشاف کیا کہ بھارت پاکستان کے میچز میں ہر دفعہ اینڈی پائی کرافٹ ریفری ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کرکٹ میں بھی سیاست لے آیا، کرکٹ میں بھارت کو بیٹ اور بال سے جواب دینا چاہیے، رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ وہ آپ کو بالکل اہمیت نہیں دیتے۔
سابق کوچ نے کہا کہ جب بابر اعظم اس وقت ٹیم کے کپتان تھے، تو میں ہمیشہ ان سے یہی کہتا تھا کہ دیکھو، تمہارے لئے اس میچ میں کامیابی ہمارے تمام کرکٹ سسٹم کا نچوڑ ہے۔ اگر بھارت کو ہرا دو تو وہ سمجھیں گے کہ ہم کتنے پانی میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت ٹیم کی صورتحال واقعی مشکل ہے۔
انہوں اینڈی پائی کرافٹ کے بارے میں انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے میچ میں یا بھارت پاکستان کے میچز میں جتنی دفعہ میں نے ٹاس کیا ہے وہ ہر دفعہ ریفری ہوتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ڈیٹا بتا رہا ہے کہ 90 بار بھارت کے میچ میں وہی ریفری رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ میری زیادہ پریشانی یہ نہیں تھی کہ مصافحہ ہوا یا نہیں ہوا، بلکہ میرا مسئلہ یہ تھا کہ پوسٹ میچ پریزنٹیشن پر جب سیاسی رکاوٹ پیدا ہو تو وہ پھر کسی بھی طرف جا سکتا ہے۔
اگر کل کو یو اے ای سے پاکستان جیتتا ہے اور سلمان علی آغا پوسٹ میچ پر کوئی سیاسی بات کرتا ہے تو وہ اس کا کوئی خاتمہ نہیں ہوتا۔ اس لیے میں یہ سمجھنا چاہ رہا تھا کہ یہ جو ایڈیٹوریل ہے یہ کس کا کنٹرول ہے؟
ریفری نے معذرت کر لی اور یہ کیس بند ہو گیا، مجھے لگتا ہے کہ ہمیں آگے بڑھنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ اتنا ڈرامائی ایکشن لینا ہماری طرف سے ٹھیک نہیں تھا۔
جب تک ای میل موصول نہیں ہوئی، ہم نے میچ کھیلنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ ای میل موصول ہونے کے بعد ہی فیصلہ ہوا۔میچ ریفری کے معافی مانگنے کی ویڈیو ریکارڈنگ بھی ہوئی۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام میں سوال ہو سکتا ہے کہ اگر ہم نے ان سے ریفری کو ہٹانے کی مانگ کی تھی تو پھر پاکستان کے میچ میں کیوں وہی شخص کام کر رہا ہے؟
رمیز راجہ نے کہا کہ آپ اس حد تک جا سکتے ہیں، اگر آپ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ ہم کھیلنا نہیں چاہتے تو پھر وہ میچ رک جائے گا، ہمیں ایک درمیانہ راستہ اختیار کرنا تھا۔
اگر میں اس پوزیشن میں ہوتا تو میں یہی کرتا۔ ہمیں کرکٹ کے ساتھ ساتھ فینز، ٹیم اور مالی معاملات کا بھی خیال رکھنا تھا۔ اگر ہم ایک دفعہ پُل آؤٹ کرتے ہیں تو اس کا اثر کیا ہوگا؟ آئی سی سی نے بھی اس بات کا ادراک کیا ہے اور ان کی طرف سے کہا گیا کہ ہم انکوائری کریں گے تاکہ یہ مسائل دوبارہ نہ ہوں۔
میچ ریفری اینڈی پائیکرافٹ نے پاکستانی ٹیم اور منیجر سے معافی مانگ لی
رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ میری ذاتی مایوسی یہی ہے کہ بعض اوقات ہمیں احساس ہوتا ہے کہ یہ سب مالی معاملات کے ارد گرد گھومتے ہیں اور انہیں مالی مفادات سامنے رکھنا ہوتا ہے، آئی سی سی کے اندر میٹنگز میں پاکستان کو کبھی کچھ نہیں ملتا، وہ صرف سیاست کے کھیل ہیں لیکن پھر بھی کرکٹ میں پاکستان کا نام اور عزت تب ہی بڑھے گی جب آپ ان کو میدان میں شکست دیں گے۔
