بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ بھگونت مان نے بھارتی کرکٹ ٹیم کے حالیہ رویے اور مرکزی حکومت کی پالیسیوں پر کڑی نکتہ چینی کی ہے۔ انہوں نے بھارتی ٹیم کی جانب سے پاکستان کے خلاف میچ سے قبل اور بعد میں ہاتھ نہ ملانے کے عمل پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ بھارتی میڈیا اس پر جشن منا رہا ہے جیسے کوئی بڑی کامیابی حاصل کر لی ہو۔
بھگونت مان نے کہا، “کیا یہ ’آپریشن سندور‘ تھا؟ اگر ہاتھ نہیں ملانا تو کھیلنے کیوں آئے؟ جب آپ نے گیند کرائی، پاکستانی بلے بازوں نے کھیل دکھایا اور آپ نے ان کے شاٹس کیچ بھی کیے، کیا یہ بھی ایک طرح کا رابطہ نہیں تھا؟”۔
وزیر اعلیٰ پنجاب نے ساتھ ہی بھارتی حکومت کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور سکھ یاتریوں کو پاکستان آنے سے روکنے کے فیصلے کو مذہبی آزادی کی خلاف ورزی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نومبر میں بابا گرو نانک کے جنم دن پر سکھ یاتری پاکستان کا سفر کرنا چاہتے تھے لیکن وزارت داخلہ کی جانب سے اچانک ان پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
بھگونت مان نے سوال اٹھایا، “جب بھارت پاکستان کے ساتھ کرکٹ کھیل سکتا ہے تو سکھ یاتری پاکستان کیوں نہیں جا سکتے؟”۔ انہوں نے واضح کیا کہ مرکزی حکومت کو عوام کے مذہبی معاملات میں رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔
دوسری جانب سابق لوک سبھا رکن اور اکالی دل کے رہنما سکھبیر سنگھ بادل نے بھی یاتریوں کی پاکستان روانگی پر پابندی کی شدید مخالفت کی۔ انہوں نے وزیر داخلہ امیت شاہ سے اپیل کی کہ فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔ سکھبیر بادل کا کہنا تھا کہ کرتارپور کوریڈور بند کرنے یا یاتریوں کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے سے سکھ برادری کے جذبات مجروح ہوں گے۔
بھارت میں اپوزیشن جماعتوں اور سکھ مذہبی رہنماؤں نے بھی حکومت کے فیصلے کو غیر منصفانہ اور ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے فوری طور پر اس پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔
