واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی ساتھی اور ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کے بانی چارلی کرک کو قتل کرنے سے قبل مبینہ ملزم ٹیلر رابنسن نے ایک ٹیکسٹ میسج بھیجا تھا جس میں قتل کے منصوبے سے آگاہ کیا گیا تھا۔
ایف بی آئی ڈائریکٹر کاش پٹیل نے انکشاف کیا ہے کہ ملزم نے ایک تحریری نوٹ بھی لکھا تھا جس میں کہا گیا کہ اسے کرک کو ’ختم کرنے کا موقع‘ ملا ہے، نوٹ ضائع کر دیا گیا تاہم تفتیش کاروں نے اس کے شواہد اورانٹرویوز کے ذریعے مواد کی تصدیق کرلی ہے۔
تفتیشی حکام کے مطابق 22 سالہ رابنسن نے اکیلے ہی کارروائی کی لیکن اس پہلو پرتحقیقات جاری ہیں کہ آیا کسی اور نے منصوبہ بندی میں کردار ادا کیا تھا۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق گرفتاری سے کچھ دیر قبل رابنسن نے آن لائن پلیٹ فارم ڈسکارڈ پر اپنے دوستوں کو پیغام بھیجا جس میں بظاہر جرم کا اعتراف کیا گیا۔
پیغام میں لکھا تھا ’’کل یوٹا ویلی یونیورسٹی کے اندر میں ہی تھا اور اس سب کے لیے معذرت چاہتا ہوں‘‘، جس کے اسکرین شاٹس محفوظ کر لیے گئے۔
11 ستمبر کو یوٹا ویلی یونیورسٹی میں تقریب کے دوران کرک کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنے قریبی ساتھی کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے انہیں ’’عظیم اور لیجنڈری شخصیت‘‘ قراردیا۔
ایف بی آئی نے بتایا کہ ملزم کا ڈی این اے اس تولیے سے ملا ہے جس میں رائفل لپیٹی گئی تھی جبکہ چھت پرپائے گئے اسکریو ڈرائیور سے بھی اس کے فنگر پرنٹس کی تصدیق ہوئی ہے۔
ملالہ یوسفزئی کا سیلاب متاثرین کیلئے بڑا اقدام، 2 لاکھ 30 ہزارڈالرگرانٹ کا اعلان
رابنسن پر منگل کو باضابطہ فردِ جرم عائد کیے جانے کا امکان ہے اوروہ ویڈیو لنک کے ذریعے عدالت میں پیش ہوگا۔
