جنوب مشرقی ایشیا میں ماہرینِ آثارِ قدیمہ نے انسانی ڈھانچے دریافت کئے ہیں، جنہیں دنیا کی قدیم ترین محفوظ لاشیں قرار دیا جا رہا ہے۔
سائنسدانوں کی تحقیقی رپورٹ کے مطابق یہ انسانی ڈھانچے تقریباً 12 ہزار سال پرانی ہیں اور انہیں دھوئیں کے ذریعے خشک کرکے محفوظ کیا گیا تھا، جو چین، فلپائن، لاؤس، تھائی لینڈ، ملائیشیا، انڈونیشیا اور ویتنام کے آثارِ قدیمہ کی مختلف مقامات سے ملی ہیں، جن میں زیادہ تر اجسام کو جھکی ہوئی یا بیٹھی ہوئی حالت میں دفن کیا گیا تھا، جبکہ کچھ پر جلنے اور کٹ لگانے کے نشانات بھی موجود ہیں۔
جاپانی سائنسدانوں نے پانی میں حل ہونے والا پلاسٹک تیار کر لیا
ماہرین کے مطابق ممیز قدرتی طور پر بھی بن سکتی ہیں، لیکن قدیم تہذیبوں نے اپنے بزرگوں کو یاد رکھنے یا ان کی روح کو اگلی دنیا میں بھیجنے کے لیے باقاعدہ طریقے اپنائے۔

جریدے میں شائع تحقیق کے مطابق قدیم انسان اپنے پیاروں کو دھوئیں سے خشک کر کے محفوظ کرتے تھے، تاکہ وہ جسمانی اور روحانی طور پر ان سے جڑے رہ سکیں، جاپان کی ساپورو میڈیکل یونیورسٹی کے محقق ہروفومی ماتسومورا کے مطابق یہ روایت دراصل وقت اور یادداشت کو عبور کرنے کا ایک ذریعہ تھی۔
واضح رہے کہ مصر کی ممیز سب سے زیادہ مشہور ہیں، لیکن دنیا کی سب سے قدیم ترین محفوظ لاشیں لاطینی امریکا کے علاقے چلی اور پیرو سے ملی تھیں، جو تقریباً 7 ہزار سال پرانی تھیں۔
