بھارتی پلیئرز نے اگر اپنے میڈیا سے ڈر کر پاکستان سے ہاتھ نہیں ملایا تو کیا ہوا، ان کو چھوڑیں، ہارمیں اپنی غلطیاں تلاش کریں، انہیں درست کریں اور میدان میں ہرا کر جواب دیں۔
ہاتھ نہ ملا کر تو بھارتی ٹیم نے اپنے ڈرپوک ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ انہیں اپنے میڈیا اور کچھ لوگوں کے لیے وہ تک کہنا پڑا جو درحقیقت ان کے دیس کی شکست اور کمزوری کو تسلیم کرتا ہے۔
ظاہر ہے جنگ ہارنے اور پاکستان پر بھونڈے الزام لگانے کے بعد ان کے بے لگام میڈیا کو ایک ہی ٹارگٹ ہاتھ آیا۔ بے چاری بھارتی ٹیم۔ اب جب بھی ہاتھ بڑھانا ہے ذمہ داری ان کی ہوگی اور یہ کوئی چھوٹی ذمہ داری نہیں۔
ابھی ارشد ندیم اور نیرج چوپڑا میدان میں اتریں گے تو کیا ہوگا، کل بھارتی سیاستدان کہیں پاکستان سے ملیں گے تو کیا ہوگا، شدید ترین خراب تعلقات میں بھی پہلے یہ موڑ نہیں آیا تھا۔ توبہ اتنا زہر وہ بھی اپنے ہی لوگوں کے خلاف بھارتی میڈیا باز ہی نہیں آ رہا ہے۔
بائیکاٹ یا واک آؤٹ کا مشن فیل ہونے کے بعد بھارتی میڈیا نے سوریا کمار یادو کے ہاتھوں کو نشانہ بھی بنا لیا تھا۔ اگر یہ بھارتی ٹیم کی پالیسی ہوتی تو وہ ٹورنامنٹ سے پہلے ہی یہ حکمت عملی اپناتے لیکن وہ تو ہاتھ ملا چکے تھے جس کے بعد ایک شور ہوا ہے کہ کیوں ملایا۔ یہ ہاتھ اور دوسری طرف زور ہوا یہ ہاتھ ہم کو دے دے سوریا کمار۔
کیا کمنٹری میں بیٹھے ہوئے گواسکر یا روی شاستری کے بھارتی ہونے پر کسی کو شک ہے؟ کیا وہ وسیم اکرم یا کسی اور پاکستانی کے ساتھ ہاتھ نہیں ملاتے؟ ابھی کچھ دنوں پہلے ہی ایشان کشن نے محمد عباس کو کاؤنٹی میں جادو کی جھپی نہیں دی تھی؟
تو ہمیں بھی اس وقت بھارتی کرکٹ ٹیم کی مشکل کو سمجھنا چاہیے، وہ اس وقت کمزور پاکستانی ٹیم سے ایک ہار برداشت نہیں کر سکتے کیونکہ بھارتی میڈیا نے جس طرح جھوٹا زہریلا پروپیگنڈا بھارتی فوج کو کسی قابل نہیں چھوڑا تھا اب انہوں نے بھارتی ٹیم کو نشانے پر رکھا ہوا ہے۔
کھیل وہ میدان ہے جہاں لڑ کر دو ملک اور ان کے لوگ جُڑتے ہیں، پاس آتے ہیں۔ بائیکاٹ، واک آؤٹ، نظریں چرانا، سامنے نہ آنا یہ بھارتی ٹیم کے لیے چھوڑ دیں اور پاکستانی ٹیم ان کے غلط طریقوں کا جواب اپنے غلط طرزِ عمل سے دینے کی کوشش بھی نہ کرے۔
پاکستانی ٹیم پر پہلی یکطرفہ ہار کے بعد بھی اتنا پریشر نہیں جتنا بڑی جیت کے باوجود بھارتی کرکٹ ٹیم کو بھارتی میڈیا نے گردن سے دبوچ رکھا ہے۔ بابر اور رضوان کی گردان کا اب کوئی فائدہ نہیں، پاکستان کے پاس جو کمان ہے، جو ٹیم ہے وہی ہے، اب اس میں سے بہترین ہی سلیکٹ کرنا ہے۔
جیسے پہلے بات ہوئی موجودہ پلئینگ الیون میں دو کھلاڑیوں کی جگہ نہیں بنتی، ایک کپتان سلمان، دوسرا فہیم اشرف۔ تیسرا آپ محمد نواز کا نام بھی لے سکتے ہیں جو غالباً آسٹریلیا میں ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں بھارت سے رن کھانے کے بعد ابھی تک پریشر ککر میں ہیں۔
اب کپتان سلمان کو تو کھلانا ہے لیکن ان کو بیٹنگ میں سنگل ڈبل کرنا ہے، بیٹنگ کو روٹیٹ کرنا ہے۔ صائم اور حارث کو شروع میں بری گیندوں کا انتظار کرنا ہے، پھر تو وہ اچھی بالز کو بھی میدان سے باہر پہنچائیں گے۔ یہ دونوں خداداد صلاحیتوں کے مالک ہیں، دونوں اس بار انڈیا کے خلاف چل گئے تو بھارتی میڈیا اپنے تمام ٹیلنٹ کو بھول جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں: پی سی بی کے سخت موقف پر پاکستان کے سامنے اہم تجویز رکھ دی گئی
کچھ بھی ہے نئی کرکٹ تو یہی ہے، بس دونوں نے شاٹ اور اسٹائل نہیں دکھانا بلکہ اسکور بھی کرنا ہے۔ بیٹنگ لائن میں صاحبزادہ فرحان اور سلمان علی آغا کو اینکر اننگ کھیلنی ہے یعنی دونوں میں سے کسی ایک کو ایک اینڈ پر 15ویں اوور تک کھڑا رہنا ہے۔ ان کی ذمہ داری سنگل ڈبل اور صرف بری گیند پر شاٹ کھیلنا ہے، باقی کام صائم، حارث اور فخر زمان پر چھوڑنا ہے۔
آخری پانچ اوورز میں فخر، حسن نواز اور شاہین نے کام دکھانا ہے۔ محمد نواز کا کام بگ ہٹنگ نہیں اور وہ معلوم نہیں کیوں انڈیا کے خلاف پریشر میں نظر آتے ہیں۔ جس طرح انہوں نے بیٹنگ میں گیند پیر پر کھائی اور پھر ہاتھوں میں آیا آسان کیچ گرایا، ان کو بٹھا کر حسین طلعت یا خوشدل کو موقع ملنا چاہیے۔ باقی فہیم کی جگہ تو حارث رووف یا وسیم ہے ہی۔
ویسے بھی صائم، سفیان، ابرار اور خود سلمان علی آغا کے ہوتے ہوئے اب اسپنر کی ضرورت نہیں۔ اور ضرورت پڑنے پر خوشدل بھی لیفٹ آرم اسپن کرا سکتے ہیں۔ فہیم اشرف کی جگہ محمد وسیم یا حارث رؤف کو چانس دینا چاہیے۔
مختلف ادوار میں خصوصا ورلڈ کپ میں مضبوط پاکستانی ٹیمز نسبتا کمزور بھارتی ٹیموں کے سامنے شکست کھاتی رہی ہیں۔ تو اس بار یہی اپ سیٹ پاکستان بھی کرسکتا ہے تو سر اٹھا کر میدان میں آئیں اور سر اٹھا کر جیت کر میدان سے جائیں۔ پھر دیکھیں جو ہاتھ ابھی آگے نہیں آئے وہی ہاتھ آپ کو سلام پیش کر رہے ہوں گے ۔
