پاکستان بھارت کو ایشیا کپ میں ہرا سکتا ہے؟ جی ہاں، ایسا ممکن ہے، حالانکہ جو صورتحال سامنے ہے اُس میں انڈیا اس وقت باہو بلی ہے اور شاہین کاغذ کے پھول۔لیکن اگر، مگر، چونکہ، چنانچہ میں ہمیں پاکستان کے چانسز زیادہ لگ رہے ہیں۔
سوریا کمار کی ٹیم سلمان آغا سے کئی گنا مضبوط سہی، لیکن یہ ون ڈے میچ نہیں بلکہ ٹی ٹوئنٹی ہے۔یہ میچ دبئی میں کھیلا جا رہا ہے۔ پاکستان پر جیتنے کا دباؤ ہی نہیں کیونکہ غالباً اس وقت تو کرکٹ پنڈت، ایکسپرٹ بلکہ فینز بھی نوے فیصد یقین کرچکے ہیں کہ پاکستان میچ ہار جائے گا۔
اگر کرکٹ میں بھارت کا برج الٹتا ہے تو انڈین میڈیا نے جو کرنا ہے، اُس سے تو گبر، موگیمبو، شاکال اور ارنب گوسوامی نے بھی پناہ مانگنی ہے۔ یہاں پاکستان میں تو اب لوگ“جیتو یا ہارو”کا گانا بار بار بجا کر امیدیں سلا چکے ہیں۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ بھارتی ٹیم میں اب کوہلی نہیں۔ جی ہاں، یہی وہ کوہلی ہیں جنھوں نے زیادہ تر میچز میں پاکستان اور جیت کے درمیان فاصلہ بڑھا کر انڈیا کو کامیابیاں دلوائیں۔
کرکٹ کی حکمت عملی
اگر پاکستان ٹاس جیتتا ہے تو پہلے بیٹنگ کرے گا۔ اگر اسکور 130 سے 140 کے درمیان بھی ہوتا ہے تو پاکستان کے اسپنرز میچ پھنسا سکتے ہیں۔ اور اگر یہ اسکور 150 سے اوپر پہنچا تو بھارتی بیٹنگ لائن دوسری اننگز میں ہدف کے تعاقب میں بری طرح ایکسپوز ہوسکتی ہے۔
پاکستان کو شروع میں بمرا کو دیکھ کر کھیلنا ہوگا اور دیگر گیند بازوں کی خراب گیندوں پر زیادہ اسکور کرنا ہوگا۔ سلمان آغا کو صائم ایوب اور فخر زمان کا بیٹنگ آرڈر ترتیب دینا ہو گا تاکہ دونوں مختلف فیز میں بھارتی بالنگ لائن کو ڈسٹرب کرسکیں۔ اگر دونوں نے اپنا کردار ادا کردیا تو حارث اور حسن نواز کی چند گیندوں کی آتشبازی کافی ہوگی۔
پاک بھارت ہائی وولٹیج میچ، نئے کپتانوں کا امتحان، گیم چینجرز کھلاڑی
فہیم اشرف کی ٹیم میں جگہ نہیں بنتی، اُن کی جگہ حارث رؤ ف کو ہونا چاہیے۔ بالنگ میں شاہین کے ساتھ نواز اوپننگ کر سکتے ہیں، پھر آف اسپنر میں صائم ایوب، ابرار اور سب سے بڑھ کر سفیان مقیم کے آپشن موجود ہوں گے۔
بھارتی بیٹنگ لائن، پانڈیا کو چھوڑ کر، ہدف کے تعاقب میں دباؤ میں آجائے گی اور پاکستان کے جیتنے کے امکانات بڑھیں گے، بھارتی بیٹرز اسٹروک میکرز ہیں لیکن دوسری اننگ میں اگر دبئی کی پچ نے اپنا رنگ دکھایا اور گیند رک رک کر آیا تو پاکستان کی جیت کے امکانات بڑھ جائینگے۔
پاکستان کی ٹیم کچھ یوں ہونی چاہیے
1.صاحبزادہ فرحان
2.صائم ایوب
3.سلمان آغا
4.فخر زمان
5.محمد حارث
6.حسن نواز
7.محمد نواز
8.شاہین آفریدی
9.حارث رؤف
10.ابرار احمد
11.سفیان مقیم
تمام کھلاڑیوں میں سب سے بہترین فیلڈر کو بارہواں کھلاڑی ہونا چاہیے۔
نتیجہ
بھارتی ٹیم اگرچہ فیورٹ ہے لیکن پاکستانی ٹیم سرپرائز دے سکتی ہے اور اس کے حق میں بھی پلڑا جھک سکتا ہے۔ دبئی کی پچ، ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ اور کم دباؤ کے ساتھ کھیلنے والی پاکستانی ٹیم بھارت کو شکست دے سکتی ہے۔
