پاکستان کے ارشد ندیم اور بھارت کے نیرج چوپڑا ایک بار پھر عالمی اسٹیج پر مدِ مقابل ہوں گے، جہاں دونوں اسٹار ایتھلیٹس عالمی ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں جیولین تھرو کے طلائی تمغے کے لیے آمنے سامنے ہوں گے۔ یہ مقابلہ 18 ستمبر کو ٹوکیو میں شیڈول ہے۔
نیرج چوپڑا، جو ٹوکیو اولمپکس کے گولڈ میڈلسٹ ہیں، شاندار فارم میں دکھائی دے رہے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان کے ارشد ندیم، جنہوں نے پیرس اولمپکس میں 92.97 میٹر کا ریکارڈ تھرو پھینک کر تاریخ رقم کی، انجری کے بعد میدان میں اترنے جا رہے ہیں۔
ماضی میں دونوں کھلاڑی ایک دوسرے کے بڑے مداح رہے ہیں۔ ارشد ندیم کی والدہ نے نیرج کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا تھا جبکہ چوپڑا کی والدہ نے ارشد کو بھی “اپنا بیٹا” کہا تھا۔ مگر حالیہ سیاسی حالات نے اس دوستانہ تعلق کو دھندلا دیا ہے۔
رواں برس مئی میں دونوں ممالک کے درمیان فوجی جھڑپ کے بعد دونوں ایتھلیٹس نے ایک دوسرے سے فاصلہ اختیار کر لیا ہے۔ نیرج نے کہا کہ “ہم کبھی قریبی دوست نہیں تھے، بس ایک دوسرے کی کارکردگی کا احترام کرتے ہیں۔” ارشد نے بھی تعلقات کو پروفیشنل انداز میں بیان کرتے ہوئے کہا کہ “جیت اور ہار کھیل کا حصہ ہیں، بس یہی تعلق ہے۔”
دونوں کھلاڑیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی رقابت نے اس مقابلے کو مزید سنسنی خیز بنا دیا ہے۔ ارشد ندیم نے جولائی میں کامیاب سرجری کے بعد بھرپور تیاری شروع کی، جبکہ نیرج نے رواں سال دوحہ میں 90.23 میٹر کی اپنی بہترین تھرو ریکارڈ کی۔
اسلام آباد کو مزید خوبصورت بنائینگے، وزیراعظم ٹی چوک فلائی اوور کا سنگ بنیاد رکھ دیا
ماہرین کے مطابق یہ مقابلہ صرف کھیل نہیں بلکہ سیاسی کشیدگی کے تناظر میں جذباتی رنگ بھی لیے ہوئے ہے۔سب کی نظریں ارشد ندیم اور نیرج چوپڑا کی اس تاریخی ٹکر پر مرکوز ہیں۔
